تھرپارکر: چیف جسٹس سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کا دو روزہ دورہ مکمل، جوڈیشل کمپلیکس کا افتتاح اور کارونجھر کو تاریخی ورثہ قرار دلوانے کی یقین دہانی

مٹھی (رپورٹ : میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور چیف جسٹس سندھ ہائے کورٹ ظفر احمد راجپوت تھرپارکر کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد روانہ ہوگئے۔
معزز جج صاحبان گزشتہ روز ننگرپارکر پہنچے جہاں انہوں نے عدالتی انتظامات کا معائنہ کیا اور کارونجھر پہاڑ میں واقع مقدس مزارات اور تاریخی مقامات کا دورہ کیا۔
تھرپارکر بار ایسوسی ایشن کے صدر موہن منتھرانی، جنرل سیکرٹری کنور امر اور نائب صدر ظہیرالدین نہڑیو نے ننگرپارکر میں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔
تھر بار کے وکلاء نے سندھ ہائے کورٹ کے کارونجھر کو محفوظ بنانے کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی استدعا کی۔
تھر بار کے وکلاء نے چیف جسٹس کو بتایا کہ کارونجھر میں ہر سال لاکھوں لوگ آتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ مقامی لوگوں کے لیے ایک بہت بڑا معاشی ذریعہ ہے، لہٰذا اس کی حفاظت کے لیے کارونجھر کے ہر پتھر کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا جائے۔
اس موقع پر جسٹس آف پاکستان نے یقین دلایا کہ انہوں نے کارونجھر پہاڑ کا دورہ کیا ہے اور یہ واقعی ایک خوبصورت تفریحی مقام ہے، جس کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
ننگرپارکر کا دورہ مکمل کرنے کے بعد دونوں معزز جج صاحبان سخت سکیورٹی میں مٹھی پہنچے جہاں انہوں نے نئے تعمیر شدہ جوڈیشل کمپلیکس کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
دریں اثناء معزز جج صاحبان نے جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں پودے لگائے اور انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر تھرپارکر بار اور عمرکوٹ بار کے وکلاء نے مہمان ججوں کو تحائف پیش کیں۔



