چین کی ایک صدی پر محیط قومی ذلت
چنگ شاہی فوج نے بغاوت کیسے کچلی،کتنے چینی باشندے مارے گئے؟

تحریر:فیصل وڑائچ
وائٹ لوٹس ریبیلن اتنا طاقتور تھا کہ اسے مکمل طور پر کچلنے میں چنگ شاہی فوج کو8سال لگ گئے۔1794سے 1804تک یہ لڑائی چلی۔چنگ شاہی فوج نے بغاوت کچل دی۔ بہت محتاط اندازے کے مطابق بھی اس میں ایک سے 2لاکھ کے درمیان چائنیز براہ راست مارے گئے۔ لیکن اس بغاوت کے اثرات سے مارے جانے والےاس سے کہیں زیادہ تھے۔تقریباً20 لاکھ کے قریب،کیونکہ اس خانہ جنگی سے فصلیں تباہ ہوئیں،نئی فصلیں اگائی بھی نہیں جا سکیں،کچھ موسم نے بھی ظلم ڈھائے،خشک سالی سے قحط پھیلا اور وبائی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ یہ ایک تباہ کن سانحہ تو تھامگر صرف آغاز تھا۔ کیونکہ اس بغاوت کے بالکل شروع کے دنوں ہی میں لندن سے ایک اور عذاب تیرتا ہوا چائنیز ساحلوں پر لنگر انداز ہو چکا تھا۔ اسے کنگ جارج تھری نے بھیجا تھا۔
1793میں برطانوی شہنشاہ کنگ جارج داسوئم نے ایک ہائی لیول وفد چین بھیجا۔ بظاہر یہ وفدچینی شہنشاہ چینگ لونگ کی83ویں سالگرہ پرکچھ تحائف لے کر آیا تھا۔لیکن یہ صرف دکھاوا تھا۔اصل میں وہ پیکنگ موجودہ بیجنگ میں ایک مستقل بزنس ہیڈ آفس مانگنے آئے تھےاوروہ بھی مکمل رائل رائٹس کے ساتھ۔ ایسا آفس جہاں سے وہ پورے چین میں اپنی افیون سمیت پوری سمگلنگ اور ٹریڈ ایمپائر کو ایک سنٹرل ہیڈ آفس سے ہینڈل کر سکیں۔بالکل اسی طرح جیسے انھوں نے ہندوستان میں کلکتہ میں پہلے اپنے ہیڈ آفس کے نام پر فورٹ ویلیم بنایا،پھر اس کی سکیورٹی کیلئے فوج رکھی اور پھر اسی فارمولے سے پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے۔
اسی مشن کے ساتھ لارڈ جارج میکارٹنی انگلش وفد کی سربراہی کرتے ہوئے چین پہنچے تو ان کے ساتھ ایک ماڈرن توپ،مکینیکل کلاک اور ٹیلی سکوپ سمیت کئی گفٹس تھے۔ایسے گفٹس جو پھلتی پھولتی ہوئی انگلش انڈسٹریل ایج کا جادو تھے۔مگر ہوا یہ کہ شہنشاہ نے اس وفد کو کوئی خاص لفٹ نہیں کروائی۔شہنشاہ کو یہ بھی سمجھ نہیں آیا کہ جو گفٹس وہ لائے ہیں،وہ کس سائنسی ترقی کا نتیجہ ہیں لیکن شہنشاہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ اس نے انگریزوں کو بزنس ہیڈ آفس اور وہ بھی اتنے زیادہ رائٹس کے ساتھ ہرگز نہیں دینا۔شہنشاہ نے انگلش وفد کو بالکل اسی طرح ڈیل کیا جیسے مڈل کنگڈم کا عظیم شہنشاہ "دی سن آف ہیون” اپنی سلطنت کے گرد پھیلی ہوئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے نمائندوں کو ڈیل کرتا ہے۔دربارداخلے کیلئے لارڈ میکاٹنی کو لازم کیا گیا کہ وہ شاہی روایت کے مطابق شہنشاہ کے سامنے 3مرتبہ جھکیں گے اور9مرتبہ زمین پر سر کو ٹیکیں گے۔یہ شہنشاہ سے وفاداری اور مکمل سپردگی کا اظہار ہوتا تھا۔لارڈ میکارٹنی نے اس روایت کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ چینی شہنشاہ، برطانوی بادشاہ کے وفد سے عام نمائندوں جیسا سلوک نہیں کر سکتا۔ایمپرر چیانگ لونگ نے برٹش وفد کی شرائط مسترد کری دیں اور انھیں خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔
انگلش وفدلندن میں کنگ جارج دا سوئم کے پاس واپس پہنچا تو یہ اس کیلئے کچھ ہی برسوں میں دوسری بڑی ذلت تھی۔ کیونکہ اس واقعے سے چند برس پہلے،1783میں10سال پہلے اس کی فوج کو مغرب میں اپنی 13کالونیز سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔امریکی کمانڈر جارج واشنگٹن کے سامنے انگلش کمانڈر لارڈ کارنوویلس نے ہتھیار ڈالے تھے اور پھر ٹریٹی آف پیرس میں یونائٹیڈ سٹیٹس نے برطانوی شاہ کو اپنا بادشاہ ماننے سے بھی سرکاری سطح پرانکار کر دیا تھا۔ انگلینڈ کو مغرب میں اتنی عظیم الشان ذلت کے بعد مشرق میں پھر ایک توہین کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بادشاہ جارج سوئم تو پاگل ہو گیا۔ اس نے اس ذلت کا جواب یوں دیا کہ چین میں ’’افیون‘‘کی سمگلنگ تیز کر دی۔چینی شہنشاہ تک خبریں پہنچیں تو اس نے پولیسنگ تیز کر دی۔
کینٹون، جسے آج "گوآنگژو” کہتے ہیں یہ چین کی غیر ملکی تجارت کے لیے واحد پورٹ تھی۔ یہیں برٹش تاجر آتے تھے اور افیون بھی اسی کے قرب و جوار سے سمگل ہوتی تھی۔1830کی دہائی میں یہاں شہنشاہ نے ایک سپیشل کمشنر "لِین ژیشو”کو تعینات کیا۔ اس کے ذمے تھا کہ وہ افیون کی سمگلنگ اور دوسری غیر قانونی تجارت کسی بھی طرح روکے۔کمشنر لِین ژیشو نے کینٹون میں ڈیرے لگا لئے اور افیون استعمال کرنے والوں کو اور بیچنے والوں کو سزائے موت دینا شروع کی۔مگر اس میں وہ ایک فرق رکھتا تھا۔وہ فارنرز پر ہلکا ہاتھ رکھتا تھا۔اس کے خیال میں مسئلہ چائنیزعوام میں تھا،امپورٹرز میں نہیں۔اس کی احمقانہ سوچ یہ تھی کہ اگر چینی عوام افیون خریدنا بند کر دیں گے توافیون کی درآمدات خوبخود بند ہو جائے گی۔ جب خریدنے والا ہی نہیں ہو گا تو پھر انگریز بیچیں گے کسے؟اب ظاہر ہے یہ ایک بیوقوفانہ تھی،سو اس کا نتیجہ بھی کچھ نہیں نکلا۔حالانکہ اس نے قانون بنایا کہ جس کے پاس افیون سونگھنے والا پائپ ہو گا ضبط کر لیا جائے گا۔ایک لاکھ پائپ ضبط کر لیے۔ہزاروں چائنیزکو افیون بیچنے پر گرفتار کر لیا۔لیکن کچھ فائدہ نہیں ہوا۔وقت کے ساتھ اسے بھی سمجھ آنے لگی کہ جب تک افیون کی اندھادھند سپلائی نہیں روکی جائے گی،اس کی سپلائی چین کو نہیں توڑا جائے گا،چینیوں کو افیون کی لت سے نجات نہیں دلائی جا سکتی۔ یعنی انگریزوں سے لڑائی مول لینا ہو گی۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ تب تک برطانوی بھی طاقتور ہو چکے تھے۔ امریکہ میں تھرٹین برٹش کالونیز کی بغاوت اور شکست سے انھیں جو صدمہ ملا تھا، اسے انھوں نے واٹر لو کے میدان میں نپولین بونا پارٹ کو شکست دے کر دھو ڈالا تھا۔برطانیہ کا امپیریل مورال ایک بار پھر آسمان پر تھا۔ وہ ایک بار پھر خود کو بین الاقوامی سپر پاور کے روپ میں ہی دیکھ رہے تھے۔1830کی دہائی میں وہ چین میں اتنی افیون بیچ رہے تھے کہ ان کی آفیشل تجارت سے زیادہ والیم افیون سمگلنگ کا تھا۔ صرف دو سال میں برطانیہ نے ایک کروڑ 40لاکھ ڈالرز کی افیون چینیوں کو بیچی۔ایک کروڑ چائنیز نشے کے عادی ہو چکے تھے اور ان میں ایک چوتھائی سرکاری آفیشلز تھے۔
سمگلرزاور ٹریڈرز تو ایک طرف کرسچین پادریوں نے اپنی الگ دکان کھولی ہوئی تھی جو چینی نوجوان پادری کو بائبل کا ایک چیپٹر سنا دیتا تھا،پادری اسے ایک پیکٹ مفت افیون دیتا تھا۔سونگھنے کیلئے چرچ کا دروازہ الگ سے ڈھال بنتا تھا۔برطانیہ،سکاٹ لینڈ،آئرلینڈ سے آئے پادری جیسز کے نام پر چندہ الگ سے لیتے تھے۔پھر انگریزوں نے یہ کام بھی شروع کر دیا کہ وہ چائنیز تاجروں سے صرف سلور ہی نہیں براہ راست افیون کے بدلے میں پراڈکٹس لینے لگے۔ یعنی ہمیں چائے،برتن اور سلک دے جاؤ اوربدلے میں افیون لے جاؤ۔مطلب حکومت کے ہاتھ ٹیکس کی کوئی رقم نہیں آ سکتی تھی اور نہ ہی امپورٹ ایکسپورٹ کا درست ریکارڈ رکھنا ممکن تھا۔سپیشل کمشنراورچائنیز شہنشاہ کی راتوں کی نیند اڑی ہوئی تھی۔لیکن چین براہ راست برطانوی تاجروں سے لڑائی مول نہیں لینا چاہتا تھا۔
سو لِین ژیشو نے 20سال کی رشین بلڈ ملکہ برطانیہ الیگژینڈرینا وکٹوریہ کو خط لکھا۔اس خط کی اصل کاپی آج بھی موجود ہے۔ہاورڈ یونیوسٹی کی آن لائن لائبریری میں اس کا انگلش ترجمہ بھی موجود ہے۔کیورئیس فیلوز مختصراً لین ژیشو نے یہ لکھا کہ ملکہ عالیہ میں نے سنا ہے کہ آپ کے مذہب میں افیون جیسا دھواں سختی سے منع ہےاور آپ کے ملک میں بھی اس کی تجارت پر سخت ترین سزا،موت کی سزادی جاتی ہے۔تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جس چیز کو آپ نے اور آپ کے مذہب نے اپنے ملک میں سختی سے بین کر رکھا ہے،اسے آپ دوسرے کے ہاں ایکسپورٹ کریں؟آپ کو کیسا لگے اگر کوئی دوسرا ملک آپ کے ملک کے لوگوں کو افیون اور نشے کے دھویں کا عادی کرنے لگے؟۔
کمشنر نے پورے مراسلے میں شہنشاہ کی طرف سے ملکہ سے درخواست کی کہ چین کے اندر افیون کی سمگلنگ بند کروائیں۔ مگر ملکہ وکٹوریہ نے غیر قانونی تجارت تو کیا بند کروانا تھی، اس نے خط کا جواب تک نہیں دیا۔ بلکہ جو افیون برطانوی تاجروں کو 2 سال میں ایک کروڑ 40لاکھ ڈالرز دے رہی تھی وہ ملکہ وکٹوریہ کے شروع کے دور میں ہی ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالرز سالانہ تک پہنچ گئی۔ چین کے لیے اب ایکشن کا وقت تھا۔
ایٹین تھرٹی نائن میں آخر کار کمشنر لین ژیشو نے تمام غیر ملکی تاجروں کو وارننگ دی کہ تین دن کے اندر اندر تمام اوپیم چیسٹس،افیون کے ڈبے انھیں جمع کروائیں۔ جو جمع نہیں کروائے گا اسے سزائے موت دی جائے گی۔ اس وارننگ کے ساتھ کمشنر نے ایک لالچ بھی دیا کہ جو کوئی جتنی اوپیم چیسٹس جمع کروائے گا، اسے اس کی کچھ انعامی رقم بھی ملے گی۔ اس وارننگ اور لالچ کو انگلش تاجروں نے بالکل مسترد کر دیا۔ کمشنر نے پھر اپنی طاقت دکھائی، اس نے دو اوپیم سمگلرز کو پکڑ لیا اور انھیں کنٹون میں سب کے سامنے سزائے موت دے دی۔ اس سے پریشان ہو کر کچھ انگلش تاجروں نے دکھاوے کے لیے چند سو اوپیم چیسٹس حکومت کے حوالے کر دیں۔ لیکن یہ تو ان کی کل اوپیم پروڈکشن کا صرف دو فیصد تھا۔ کمشنر اتنا تو جانتا تھا، وہ آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے پوری امپیرئل پاور استعمال کی اور برٹش تاجروں کی چینی ساحل پر مشہور زمانہ تھرٹین فیکٹریز کو گھیر لیا۔ وہاں تین ہزار کے قریب انگریز اور دیگر ملازمین بھی تھے، وہ سب اس گھیرے میں آ گئے۔ حقہ پانی بند۔ دوسرے الفاظ میں سب قیدی بنا لیے گئے۔ کوئی چھ ہفتے تک یہ محاصرہ چلا۔ جب انگریزوں نے بیس ہزار اوپیم سے بھری ہوئی چیسٹس چائنیز حکام کے حوالے کیں تب محاصرہ ختم ہوا۔
کمشنر لین ژیشو نے یہ ساری افیون ضائع کرنے کے لیے پانچ سو ملازمین ہائیر کیے۔ ایک بڑے نالے کے قریب تین گہرے گھڑے کھودے گئے، ان میں افیون گرا کر اس پر نمک اور ایسے کیمیکل پھیلائے گئے جو افیون کو پانی میں حل کر کے اس کی کیمسٹری خراب کر دیں۔ پھر ان گڑھوں میں دو دو فٹ پانی کھڑا کر دیا گیا۔ جب افیون اچھی طرح پانی میں گھل جاتی تو اسے نالے میں چھوڑ دیا جاتا جہاں یہ پانی کے ساتھ سمندر میں بہہ جاتی۔ بائیس دن تک اسی طرح تواتر سے کام ہوا تب کہیں جا کر بیس ہزار چیسٹس کی افیون تباہ کی جا سکی۔
انگریزوں کی جو افیون ضبط اور ضائع کی گئی اس کی قیمت پچیس لاکھ پاؤنڈز کے قریب بنتی تھی۔ ان تاجروں کے ساتھ ملکہ برطانیہ بھی اس سمگلنگ سے اچھا خاصا منافع کما رہی تھی، یعنی تاج برطانیہ کو براہ راست فائدہ ہوتا تھا۔ سو ملکہ اور لندن کے شہری تو غصے میں آ گئے کہ اتنی ذلت، اتنی بے عزتی۔ واٹر لو میں نپولین کو شکست دینے والوں کو چرسیوں اور افیونچیوں نے سمگلنگ سے روک دیا؟ لاکھوں پاؤنڈز کا نقصان پہنچا دیا! جیسز کرائسٹ اتنا ظلم۔۔۔ لندن اور مانچسٹر کی سڑکوں پر جنٹل مین کوٹ پتلون پہن کر نکل آئے اور چینیوں کو افیون سمگلنگ روکنے کی سزا دینے کا مطالبہ کرنے لگے۔ حالانکہ برطانیہ میں قانوناً افیون کی خریدوفروخت اور استعمال سب سے بڑا جرم تھا۔ ملکہ وکٹوریہ نے چین پر جنگ مسلط کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ اوپیم وارز کا آغاز تھا۔ فورٹین فورٹی ون میں پہلی اوپیم وار ہوئی۔
اٹھارہ سو انتالیس میں ملکہ وکٹوریہ نے جنرل لارڈ ایلیٹ کو چینیوں کو سبق سکھانے کے لیے بھیج دیا۔ اس کے ساتھ سولہ فولادی جہاز اور چار ہزار فوجی جوان تھے۔ ملکہ نے لکھ کر دیا کہ جب تک چینی چھ شرائط قبول نہ کریں، چائنیز پورٹس کا بلاکیڈ جاری رکھنا، ان کی بندگارہوں سے کچھ بھی امپورٹ یا ایکسپورٹ نہیں ہونا چاہیے۔ چھ ڈیمانڈز میں سے پہلی یہ کہ چینیوں نے جتنی افیون ضائع کی ہے پوری کی پوری واپس کی جائے یا پھر اس کی مارکیٹ ویلیو، نہ کہ پروڈکشن ویلیو، کے مطابق قیمت اداکی جائے۔ دوسری یہ کہ جن چھ ہفتوں تک برٹش فیکٹریز کا محاصرہ کیے رکھا گیا ہے، اس دوران کا سارا نقصان پورا کیا جائے۔ تیسری یہ کہ شہنشاہ گارنٹی دے کہ آئندہ کسی برطانوی شہری کو ایسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ چوتھی اور توہین آمیز شرط یہ کہ چین اپنا ایک جزیرہ مستقل طور پر برطانیہ کے حوالے کر دے، وہاں کی آبادی سمیت۔ پانچویں شرط یہ کہ کینٹون میں چائنیز مناپلی نہیں ہو گی، مطلب چائنیز سرزمین پر انھی کی مناپلی نہیں ہو گی۔ چھٹی شرط یہ کہ کمشنرلین ژیشو کے ایکشنز سے جو بھی نقصانات پچھلے تمام مہینوں میں برطانوی تاجروں کو پہنچے ہیں، وہ مکمل طور پر ادا کیے جائیں گے۔
یہ توہین آمیز شرائط ساتھ لے کر موسم گرما میں برٹش نیوی کنٹون کوگھیرنے پہنچ گئی۔ کموڈور جیمز بریمر اس نیول فورس کو لیڈ کر رہے تھے۔ برٹش نیوی جب چائنیز ساحلوں پر پہنچی تو ان کی تیاری دیکھ کر چائنیز کو جیسے پہلی بار ہوش آ گیا ہو۔ انھیں پتا چلا کہ پورٹس کے ڈیفنس کے لیے جو توپیں لگیں ہیں، وہ تو دو سو سال سے اپ ڈیٹ ہی نہیں کی گئیں!انھیں تو زنگ کھا چکا ہے۔ برطانوی سٹیل میں ڈھلے جہازوں کے مقابلے میں چائنیز نیوی کے پاس پرانے لکڑے کے جہاز تھے۔ برٹش توپوں نے انھیں پل بھر میں درمیان سے دو ٹکڑے کر دیا۔ برٹش جہازوں کی رفتار بھی چائنیز جہازوں سے کہیں تیز تھی۔ چائنیز کے پاس ساحل پر مقابلے کے لیےجو بندوقیں تھیں، وہ بھی پرانی تھیں اور انھیں چلانے والے بھی ٹرینڈ سولجرز نہیں تھے۔
برٹش نیول فلیٹ نے کل ملا کر تین سال تک چائنیز ساحلوں کو گھیرے رکھا۔ اس دوران کئی اہم ساحلی شہر، قلعے اور بستیاں تباہ کر دی گئیں۔ چائنیز شہنشاہ بار بار ایک آفیسر کو برٹش سے ڈیل کرنے اور لڑنے کے لیے بھیجتے تھے اور اس آفیسر کی آفیشل پوسٹ ہوتی تھی "مینیجر آف باربیرین” جنگلیوں کا منتظم۔ چائنیز شہنشاہ، سن آف ہیون ابھی تک خود کو مڈل کنگڈم کا وہ حکمران سمجھتے تھے، جس کی سلطنت آفاقی ہے۔ جس کے گرد بے ہنگم دنیا آباد ہے جہاں باربیرینز رہتے ہیں۔ ان کا ورلڈ ویو ظاہر ہے حقیقت سے دور ہو چکا تھا۔ اسی لیے یہ جنگلیوں کا منتظم بھی شہنشاہ کو بار بار بدلنا پڑتا تھا کیونکہ وہ سو کالڈ جنگلیوں کو مینیج نہیں کر پاتا تھا۔ ان ناکام مینیجرز آف باربیرینز کے ساتھ بہت برا ہوتا تھا۔ کیونکہ کسی کو شہنشاہ ملک سے نکال دیتا تھا، کسی کو سزائے موت سنا دیتا تھا اور کسی کو انگریز پکڑ کر ہندوستان لے جا کر جیل میں بند کر دیتے تھے۔چائنیز بے بسی کا عجب عالم تھا۔
تین برس میں برٹش نیوی نے پندرہ سو کلومیٹر لمبے چائنیز ساحل پر اتنے اٹیک کیے کہ چائنیز صرف اپنی شکست دیکھنے پر مجبور ہو چکے تھے۔ برطانوی جہاز، کینٹون سے اوپر تائیوان اور اس سے بھی اوپر نارتھ میں دریائے ینگ ژی کے دہانے تک پہنچ گئے۔ چائنیز فورسز ہر جگہ ان کے سامنے ریت کی دیوار تھیں۔ جون اٹھارہ سو بیالیس میں شنگھائی بھی برٹش فورسز کے قبضے میں چلا گیا۔ ایک اور اہم ترین تاریخی چائنیز شہر "ننینگ کنگ” بھی چینیوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ چائنیز کی تمام سمندری تجارت، انگریزوں کے گھیرے میں تھی، ان کے قبضے میں تھی، ان کے رحم و کرم پر تھی۔
چنگ شاہی دربار کو یہ سمجھنے میں کافی وقت لگ گیاتھا کہ چائنیز آئسولیشن پالیسی انھیں میدان جنگ میں بھی بہت پیچھے لے جا چکی ہے۔ اگست اٹھارہ سو بیالیس میں چائنیز نے انگریزوں کے آگے ہتھیار ڈال دئیے اورانگریزوں کی شرائط پر مذاکرات کے لیے تیار ہو گئے۔ انگلش کمانڈر جنرل ہیو گاہ نے برٹش وارشپ ایچ ایم ایس کارنیویلس پر چائنیز آفیشلز کو بلایا اور سرنڈر اگریمنٹ، دی ٹریٹی آف نینکنگ پر دستخط کروائے۔ وکٹورئیس، فاتح انگریزوں کی ڈیمانڈز پر جو شرائط منوائیں، وہ ملکہ کی بتائی ہوئی پچھلی چھ شرائط سے بھی زیادہ شرمناک تھیں۔
ٹریٹی آف نینکنگ کے نتیجے میں چین نے کنٹون کے قریب ایک چھوٹا جزیرہ جس کا لوکل نام "ہانگ کانگ” تھا، برطانیہ کو سرنڈر کر دیا۔ صرف ایک ایکسلوسیو انٹرنیشنل پورٹ اب چائنیزکو اپنی پانچ میجر پورٹس کینٹون، آموئے، فیوژان، نینگبو اور شنگھائی برٹش تجارت کے لیے کھولنا پڑیں۔ انگریز تاجروں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے انھیں اکیس ملین سلور ٹیلز دینا پڑیں۔ دو کروڑ دس لاکھ۔ برطانوی شہریوں کے ساتھ دوبارہ کوئی زبردستی نہیں ہو گی، اس کی شاہی گارنٹی دینا پڑی۔ شاہی دربار میں انگریزوں کے ساتھ خاص طور پر اچھے سلوک کی گارنٹی دینا پڑی۔ پھر اس میں مزید شرائط اگلے سال یہ بھی شامل کر دی گئیں کہ چائنیز قوانین، چین میں رہنے والے اور تجارت کرنے والے انگریزوں پر اپلائی نہیں ہوں گے۔ کوئی شکایت ہو گی تو برطانوی نمائندے کو بتایا جائے گا، وہ اپنے شہریوں سےخود ڈیل کریں گے۔ اور پھر یہ کہ چائنیز، برطانوی تاجروں کو موسٹ فیورڈ نیشن قرار دیں گے۔ یعنی وہ تمام سہولیات جو کسی بھی تاجر کو میسر ہو سکتی ہیں، ممکن ہیں، وہ تمام برٹشرز کو دی جائیں گی۔
شہنشاہ چین۔۔ دی مائیٹی چائنیز ایمپرر، سن آف ہیون، رولر آف دا مڈل کنگڈم۔۔۔ صدیوں بعد چائینیز آئیسولیوشن پالیسی کا پھل چکھ رہا تھا۔ چین کا مڈل کنگڈم سینڈروم، عظمت رفتہ کی شان دریائے ینگژی کے کنارے ملکہ برطانیہ کے امریکہ میں ہارئے ہوئے کمانڈر کے نام پر بنے جہاز، ایچ ایم ایس کارنیویلیس کے عرشے پر دھو ڈالی گئی تھی۔ چین کی سنچری آف ہیوملیشن، ذلت کی صدی کا آغاز ہو گیا تھا۔
دوستو،چائنیز پر صرف بیرونی حملے ہی قیامت نہیں تھے، چائنیز آپس میں بھی لڑنے لگے تھے۔ بیوروکریسی میں بار بار امتحان دینے اور سات مرتبہ ناکام ہونے والے ایک چینی کو خواب آیا تھا کہ ایک بوڑھی خاتون اسے کہہ رہی تھی، ” تم تو جیسز کرائسٹ کے چھوٹے بھائی ہو۔” وہ اٹھا اور اس نے اپنی مقدس بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اس کرژمیٹک چینی کے گرد سات کروڑ چائنیز اکٹھے ہو گئے۔ یہ ان کا سیویئر، پیرومرشد بن گیا۔ اب یہ چونکہ کرسچن فیتھ کے ساتھ کھڑا تھا، تو چین میں موجود امریکی، برٹش، جرمن اور ڈچ فورسز نے بھی اس سے خفیہ تعاون شروع کر دیا۔ سنچری آف ہیومیلیشن ابھی اور تاریک تر ہونا تھی۔



