صنعتکاروں کو اپنی انٹر نیشنل برینڈنگ کیلئے خود بھی سرمایہ کاری کرناہو گی،ہارون اختر

وزیرآباد(جانو ڈاٹ پی کے)ضلع وزیرآباد کے مقامی کٹلری کلسٹر کی ترقی کے لیے وفاقی سطح پر سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز اتھارٹی آف پاکستان کی میزبانی میں اہم مشاورتی میٹنگ منعقد کی گئی، جس میں وفاقی اسپیشل ایڈوائزر وزیر اعظم پاکستان برائے صنعت و پیداوار پاکستان ہارون اختر خان نے خصوصی طور پر شرکت کی۔اس میٹنگ میں ضلع وزیرآباد سے چیئرمین پاک کٹلری کنسورشیم وزیرآباد محمد خالد مغل نے مقامی کٹلری ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کے ہمراہ شرکت کی۔

وزیر اعظم کے مشیر ہارون اختر خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے ویژن کے مطابق ان کے تمام ادارے ضلع وزیرآباد کے مائیکرو اینڈ سمال انٹرپرائزز کٹلری کلسٹر وزیرآباد کی پیداواری صلاحیت اور ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے پنجاب حکومت کے اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ کٹلری مصنوعات کی ایکسپورٹ میں میڈ اِن پاکستان وزیرآباد کے حصہ کو مزید نمایاں کیا جا سکے اس کے لیے اب مقامی کٹلری کلسٹر وزیرآباد کو بھی مکمل دستاویزی ہونا ہو گا ان کا ویژن فری اکانومی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اگلے 3 سالوں میں ہم اپنے اقدامات کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل سے آگے بڑھائیں مگر مقامی صنعتکاروں کو اپنی انٹر نیشنل برینڈنگ کے لیے خود بھی سرمایہ کاری کرنی ہو گی اس موقع پر چیئرمین پاک کٹلری کنسورشیم وزیرآباد محمد خالد مغل نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ ہم آپ کے اور سمیڈا کے انتہائی شکر گزار ہیں آپ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم پاکستان کٹلری کلسٹر وزیرآباد کی برینڈنگ اور ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے آپ کو قابل عمل تجاویز دے سکیں 2015 سے 2025 تک ہم نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے ویژن کے مطابق سمال انڈسٹریل اسٹیٹ وزیر آباد میں اپنی مدد آپ کے تحت پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ساتھ مل کر 100 کروڑ روپے کی پرائیویٹ سرمایہ کاری سے اس کی تعمیر کو مکمل کیا ہے مگر پنجاب حکومت نے مقامی مائیکرو اینڈ سمال انٹرپرائزز کٹلری کلسٹر وزیرآباد کی رہائشی ایریا میں واقع فیکٹریوں کو سمال انڈسٹریل اسٹیٹ وزیر آباد میں منتقل کرنے کے لیے اب تک ایک روپے کی مدد نہیں کی جس سے ایکسپورٹ اورینٹڈ مقامی صنعتوں کی اپنے حصہ کی سرمایہ کاری کرنے کے باوجود مشکلات انٹر نیشنل مارکیٹ میں جوں کی توں ہیں سٹیٹ بینک آف پاکستان کو وفاقی حکومت کے تمام اداروں نے گزشتہ 5 سالوں سے اپنی تحریری سفارشات گزشتہ دی ہیں کہ کٹلری کے مقامی کلسٹر وزیرآباد کو ورکنگ کیپٹل فراہم کرنے کے لیے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کیٹگری میں شامل کیا جائے مگر اس کے بھی نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں براہ کرم سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز اتھارٹی پاکستان کو آپ حکم دیں کہ وہ دوبارہ سے مقامی کٹلری کلسٹر وزیرآباد کی ڈویلپمنٹ کے لیے اپنی مکمل رہنمائی اس سیکٹر کو مستقل فراہم کریں اور پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب آسان روزگار اسکیم سے سمال انڈسٹریل اسٹیٹ وزیر آباد کی جلد آباد کاری کے لیے بذریعہ پنجاب بینک مقامی صنعتکاروں کو بلا سود آسان قرضہ جات فراہم کیے جائیں تو ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں اگلے 3 سالوں میں ہم اپنی ایکسپورٹ اور پیداواری صلاحیت کو دو گنا بڑھائیں گے ہمارے پاس گلف امریکہ اور یورپ ممالک کی بہت بڑی کٹلری کی انٹرنیشنل مارکیٹ ہں ے مگر ہمیں صوبائی و وفاقی حکومتوں کی مدد حاصل نہیں ہو پا رہی جس سے ہم چائنہ انڈیا ترکی اور ویتنام سے پیچھے رہ گئے ہیں آپ صوبائی و وفاقی حکومتوں کی مثبت مداخلت کو یقینی بنائیں باقی اپنے حصہ کی محنت ہم خود کریں گے جس پر وفاقی اسپیشل ایڈوائزر وزیر اعظم پاکستان برائے صنعت و پیداوار پاکستان ہارون اختر خان نے ان مسائل کو حل کرنے کی شرکاء میٹنگ کو مکمل یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع وزیرآباد کے مقامی کٹلری کلسٹر ممبران سے اچھے نتائج کے لیے مسلسل میٹنگز کرتے رہیں گے جس پر چیئرمین پاک کٹلری کنسورشیم وزیرآباد محمد خالد مغل نے ان کے اس جذبے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔(فوٹو ہمراہ ہے)

مزید خبریں

Back to top button