رمضان قتل کیس،بغیر ایف آئی آر گرفتاراہلکار عدالت پیش،164کا بیان ریکارڈ نہ ہو سکا

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)ڈیپلو نزد علی بندر روڈ پر کار میں گولیاں مارکر قتل کیا ہوا رمضان کھوسو کیس میں ایف آء آر کے بغیر گرفتار ہونے والے تھانہ ڈیپلو کے پولیس اہلکار عطا اللہ بجیر کو سول جج ڈیپلو کی عدالت میں پیش کیا گیا تاہم شکایت کنندہ کی عدم حاضری کے باعث معزز عدالت نے کارروائی درمیان میں روک کر اسے طلب کر لیا۔ کچھ دیر بعد شکایت کنندہ بھی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پہنچ گیا اور اپنے بیان میں کہا کہ پولیس نے عطا بجیر کو گرفتار کر لیا ہے، وہ ان کی مرضی ہے، تفتیش میں کسی کو گرفتار کرنے دیں، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

جبکہ پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جس رائفل سے فائر کیا گیا وہ پولیس افسر عطا بجیر کے نام پر ہے، مزید تفتیش کے لیے پولیس کا ریمانڈ دیا جائے۔عدالت نے ملزم کا پولیس ریمانڈ دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیااس وقت گرفتار عطاء اللہ بجیر نے اپنے وکیل سے کہا کہ پولیس تفتیش کر سکتی ہے لیکن میں اس جرم میں ملوث نہیں ہوں۔عدالت میں پیش کیے گئے عطاء اللہ بجیر کا 164 بیان قلمبند نہ ہوسکا اور پولیس کا بیان سننے کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔

ادھر گرفتار پولیس اہلکار کے چچا کریم بخش بجیر نے احتجاج کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو خط لکھا کہ میرے بھتیجے کو بلاجواز گرفتار کرکے مقدمے میں پھنسایا جا رہا ہے اور اس پر وحشیانہ تشدد کیا جا رہا ہے۔ خط میڈیا میں شائع ہونے کے بعد پولیس نے گرفتار عطا بجیر کو عدالت میں پیش کیا۔دوسری جانب شکایت کنندہ ایف آئی آر میں مرکزی کردار سمجھے جانے والے ایس ایچ او حسین بخش راجڑ، ڈرائیور لالہ بجیر اور شوکت راھمون کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ادھر سوشل میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ گرفتاری سے فرار ہونے والے ملزمان بااثر کے بنگلے میں پناہ لیے ہوئے ہیں، اور پولیس ان کی گرفتاری سے ڈرتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button