سندھی ہاری تحریک ضلع بدین کا جنرل کونسل اجلاس
ہاریوں کی محنت کے تحفظ کے لیے ہاری عدالتیں قائم کی جائیں،اجلاس میں مطالبہ

بدین(رپورٹ:مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)سندھی ہاری تحریک ضلع بدین کا جنرل کونسل اجلاس گوٹھ رامجی کولہی میں منعقد ہوا، جس میں عوامی تحریک کے مرکزی نائب صدر ستار رند، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری دریاء خان زئور، عوامی تحریک ضلع صدر مہراڻ درس، ہاری تحریک ضلع صدر جاکرو نوحاڻي، ستو کولہی، جیون کمار، لالجی، بھارمل، شونو، پرشوتم، کرشن، منور اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کرسی کی لالچ میں سندھ کے تمام وسائل اور زمینوں کا سودہ کر کے قومی غداری کی ہے۔ سندھ میں ہاری عوام جاگیرداروں اور بااثر افراد کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات کے مسائل گزشتہ 17 سالہ دورِ حکومت میں حل نہیں ہو سکے۔ ہاریوں کے نام پر جاری کیا گیا ہاری کارڈ بھی کھاتے داروں کو سیاسی رشوت کے طور پر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت غریب عوام بدترین غلامی کے دور سے گزر رہے ہیں سرکاری بندوں پر بھی ہاریوں کو بیٹھنے نہیں دیا جاتا، اور ٹیننسی ایکٹ کے تحت ملنے والی ادھوری مراعات بھی بااثر وڈیروں نے ختم کر دی ہیں۔ اب سندھ میں ہاری اور مزدور طبقے کے لیے اجرت اور سہولتوں سے متعلق کوئی طریقۂ کار یا قانون موجود نہیں،جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت جنگل کے قانون کے رحم و کرم پر ہےاسمبلیاں صرف کرپٹ وزیروں اور اراکین کو تحفظ دینے کے لیے آئینی ترامیم کر رہی ہیں۔انہو نے مطالبہ کیا کہ سندھ کی زمینیں کارپوریٹ فارمنگ یا دیگر کمپنیوں کو دینے کے بجائے سندھی ہاریوں کو دی جائیں۔ہاریوں کی محنت کے تحفظ کے لیے ہاری عدالتیں قائم کی جائیں، ان کی رہائش کے لیے ہاری کالونیاں تعمیر کی جائیں، اور ہاریوں کے بچوں کے لیے تعلیم و صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں ملک میں خصوصاً سندھ میں روزمرہ اشیاء کی مصنوعی مہنگائی پر قابو پایا جائے، اجناس کی قیمتوں میں من مانی اور بیج و کھاد مہنگے داموں فروخت کرنا بند کیا جائےانہو نے کہا کہ دریائے سندھ پر زوری کینال کی تعمیر اور سندھ کے کسٹم کے ذریعے وفاق کی جانب سے بڑا سرمایہ لے جانا ملکی سالمیت کے خلاف خطرناک سازش ہے انہو نے مزید کہا کہ ملک میں شہنشاہیت جیسا قانون نافذ کیا جا رہا ہے جس سے انسانی حقوق، صوبائی حیثیت اور قومی آزادی بری طرح متاثر ہوگی، جو عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے



