رمضان قتل کیس کے2ملزم عدالت میں پیش،ریمانڈ پر پولیس کے حوالے،سابق ایس ایچ او کو بچانے کا منصوبہ تیار

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)ڈیپلو کے قریب علی بندر روڈ پر کار کے اندر فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان رمضان کھوسو، مقدمے میں نامزد پولیس اہلکار پرکاش میگھوار اور مخبر ہونے کے الزام میں گرفتار پھلاج میگھواڑ کو سول مجسٹریٹ ڈیپلو کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے دونوں کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ گرفتار ملزمان کو کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے انچارج ڈی ایس پی لطف اللہ لغاری نے پیش کیا۔

عدالت نے پولیس سے روزانہ انٹری اور پراپرٹی کی تفصیلات دریافت کیں جو مکمل نہیں ہوئیں، عدالت نے کارروائی روک کر تمام فارملٹیز جمع کرانے کا کہا، جس کے بعد عدالت نے دونوں ملزمان کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔اس موقع پر ملزم پرکاش میگھوار نے کہا کہ میں اس کیس میں ملوث نہیں ہوں اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، باقی گرفتاری میں نے خود دی ہے۔دوسری جانب یہ افواہیں ہیں کہ گرفتار بجیر پولیس اہلکار سے ایف آئی آر کے علاوہ پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ادھر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پولیس نے اصل ملزمان سابق ایس ایچ او حسین بخش راجڑ اور پولیس اہلکار شوکت راہموں کو بچانے کا پلان تیار کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایک طرف یہ بھی الزام لگائے جا رہے ہیں کہ تحقیقاتی کمیٹی کے انچارج ڈی ایس پی لغاری ایک سادا آدمی ہیں اسی کی آڑ میں اصل تفتیش ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کر رہا ہے،جو کیسز ڈراپ کرنے اور بے گناہ لوگوں کو گھیرنے میں ماہر ہے۔دریں اثناء سابق ایس ایچ او حسین بخش راجڑ نے سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے بعد سیشن کورٹ مٹھی سے بھی عارضی ضمانت حاصل کر لی تاہم جب وہ مستقل ضمانت کے لیے پیش ہوئے تو معزز جج رخصت پر تھے اور انہیں دوبارہ پیش ہونے کی تاریخ دی گئی جس سے انہیں کافی ریلیف ملا۔

ادھر ذرائع کے مطابق مقتول رمضان کھوسو کے ورثاء پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور اگر سابق ایس ایچ او کو بچانے کی کوئی کوشش کی گئی تو وہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کریں گے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ان کے نوجوان کو ایس ایچ او حسین بخش راجڑ نے قتل کیا ہے۔ اس کے ثبوت کے طور پر وہ کہہ رہے ہیں کہ سابقہ ایس ایچ او نے رمضان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور بالآخر اس نے اسے مار ڈالا۔ تاہم اس پر سابقہ ایس ایچ او کا موقف سامنے نہیں آ سکا۔

مزید خبریں

Back to top button