تھر بچاؤ "کلائمیٹ مارچ”کا مٹھی پہنچنے پر شاندار استقبال

تھر کو ماحول فری زون قرار دے کر فطرت کے ساتھ چھیڑچھاڑ بند کی جائے،مظاہرین

تھرپارکر(رپورٹ:ميندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)تھر سٹیزن فورم کی جانب سے کوئلہ منصوبوں،چائنہ کلے،نمک کی کانوں، اینٹوں کے بھٹوں،کپّنوں، کارونجھر کی کٹائی اور درختوں کی بے دریغ کٹائی کے باعث پیدا ہونے والی ماحولیاتی تباہی کے خلاف “صاف ستھرے اور سرسبز ماحول کیلئے بیدار تھر” کے عنوان سے6روزہ کلائمیٹ مارچ،تھر کے 7تعلقہ سے ہوتا ہوا مٹھی پہنچ گیا۔

مٹھی میں پہنچنے پر مارچ میں شامل رہنماؤں کا گل پاشی کر کے چیلھار اور مٹھی بائی پاس پر شاندار استقبال کیا گیا۔مارچ جب کشمیر چوک پہنچا تو تھر کی سول سوسائٹی کے رہنماؤں تھر سٹیزن فورم کے چیئرمین اوبھایو جونيجو، اعجاز بجیر، سماجی رہنما کرشن شرما، ماما وشن تھری، ارباب عمران، جماعت اسلامی کے رہنما میر محمد بلیڈی، عظمیٰ ابڑینگ، قربان سمیجو، ساجن چارو، امتیاز نور کنبھر، میوا رام اور دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھر کا بدلتا موسم،موسموں کی بے ترتیبی اور ماحولیات کی بگڑتی صورتحال موسمیاتی تبدیلی کے واضح آثار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تھر میں انسانی، حیوانی اور نباتاتی زندگی کا دارومدار زیرِ زمین پانی پر قائم ماحولیات کے نظام پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تھر میں کوئلہ منصوبوں، اینٹوں کے بھٹوں، کپّنوں اور درختوں کی کٹائی کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کی بہتری کے لیے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ ماحول بہتر ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں ماحولیات کے بگاڑ کے باعث ماحول صاف نہیں رہا، اس لیے ماحول کے تحفظ اور اس کے انصاف کو ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے اور عوام آلودگی کے اسباب کو جان کر آواز اٹھائیں انہوں نے کہا کہ تھر کول منصوبوں، بھٹوں، کوئلے کے کپّنوں، نمک اور چائنا کلے کی کانکنی، اور ریلوے لائن کی تعمیر نے تھر کی فطرت کو بُری طرح متاثر کیا ہے اور سازشی کمپنیوں نے مقامی لوگوں کو حق دینے کے بجائے ان سے بنیادی حقوق چھین لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں نے زیرِ زمین پانی، درختوں، پودوں، زمین اور جنگلی حیات کو تباہ کر دیا ہےرہنماؤں نے کہا کہ کارونجھر ہمارے لیے صرف پتھر نہیں، بلکہ ہمارے جسم کا حصہ ہے، جہاں مذہبی عبادت گاہیں بھی موجود ہیں۔ حکومت کا رویہ اس قدر منفی ہو چکا ہے کہ جو چاہے، جہاں چاہے کھو دیا جائے، لیکن کارونجھر کو ہم کسی صورت کٹنے نہیں دیں گے، اور ہر محاذ پر کارونجھر سمیت تمام قدرتی معدنی وسائل کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کابینہ میں کارونجھر کو ہیریٹیج قرار دینے کی تجویز دی اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تھر میں ریلوے لائن اور اوپن مائننگ کے باعث لاکھوں درخت کاٹ کر تباہ کیے گئے ہیں اور تھر کی ماحولیات کو برباد کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھر کو ماحول فری زون قرار دے کر فطرت کے ساتھ چھیڑچھاڑ بند کی جائے، درختوں کی کٹائی اور شکار پر مکمل پابندی لگائی جائے، اور کوئلہ منصوبوں میں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کول سے ملنے والی اربوں روپے کی رائلٹی سے تھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے، جس میں مقامی لوگوں کی نمائندگی ہو اور یہ رقم تھر کے بنیادی مسائل اور سہولیات پر خرچ کی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button