سرگودھا مبینہ پولیس تشدد، غیرقانونی حراست اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک اور سنگین معاملہ سامنے آگیا

سرگودھا(جانو ڈاٹ پی کے)مبینہ پولیس تشدد، غیرقانونی حراست اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک اور سنگین معاملہ سامنے آگیا ہے،چک 51 شمالی کے رہائشی محمد فیصل اور ان کے بھائی حافظ محمد عثمان نے سرگودھا پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تھانہ سٹی کے اے ایس آئی سرور گجر اور متعلقہ اہلکاروں پر غیرقانونی حراست، ہراسانی، بدسلوکی، تشدد اور رشوت طلب کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

متاثرہ بھائیوں کے مطابق وہ5نومبر 2025کو ایف آئی آر نمبر 798/25 بجرم 380 کے تحت عدالت میں پیش ہوئے، تاہم واپسی پر پولیس اہلکار انہیں زبردستی تھانہ سٹی لے گئے جہاں اے ایس آئی نے مبینہ طور پر اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے انہیں بند کمرے میں ہراساں کیا،دھمکیاں دیں، موبائل فون چیک کرتے ہوئے بدسلوکی کی اورنشہ کی حالت میں منشیات کے استعمال کے الزامات لگا کر مسلسل بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران ان پر دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ اہلکار کو ایک لاکھ روپے رشوت دیں تاکہ وہ مدعیوں سے “سیٹنگ” کرا دے،ورنہ ان کے خلاف مزید چوری اور منشیات کی جھوٹی ایف آئی آرز درج کر دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مدعی مقدمہ علی سلیمان جو صرافہ بازار میں اعجاز کاسٹنگ کے نام سے کاروبار کرتا ہےتھانے میں موجود رہا، تشدد کی ویڈیوز بناتا رہا اور پولیس کے ساتھ مل کر مسلسل دباؤ بڑھاتا رہا۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ تشدد کے باعث اُن کی حالت غیر ہونے پر انہیں6اور7نومبر کی درمیانی شب سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں جاری ہونے والی میڈیکل لیگل رپورٹ (MLC نمبر 25/77) نے تشدد کے نشانات کی باقاعدہ تصدیق کر دی۔

دونوں متاثرین نے بتایا کہ ایف آئی آر کو وہ سراسر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہیں کیونکہ تفتیش میں کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ انہوں نے علاقہ مجسٹریٹ اور ڈی پی او سرگودہا کو درخواستیں بھی دیں جن کے ساتھ ایم ایل سی بھی منسلک کی گئی، تاہم ان کے مطابق ابھی تک ان کی شنوائی نہیں ہوئی اور نہ ہی اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

متاثرہ خاندان نے ڈی پی او سرگودھا، اے ایس پی سٹی، آر پی او سرگودھا، آئی جی پنجاب اور وزیرِاعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے، اے ایس آئی سرور گجر، مدعی مقدمہ علی سلیمان اور دیگر ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی، جھوٹی ایف آئی آر کے اخراج اور انہیں مکمل انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق معاملہ بالا حکام تک پہنچ چکا ہے اور درخواست کا جائزہ لینے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button