رمضان کا قتل اور ٹارچر سیل،ایس ایس پی کی ڈیپلو میں کھلی کچہری،شکایتوں کا انبار

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)ایس ایس پی تھرپارکر محمد شعیب میمن ڈیپلو پہنچ گئے۔ کھلی کچہری، شکایات کے انبار لگ گئے، غیر قانونی طور پر قائم وائن شاپ بند کرنے کے احکامات دیے گئے، تمام مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
ایس ایس پی تھرپارکر محمد شعیب میمن ڈیپلو کے قریب نوجوان رمضان کھوسو کے قتل اور ڈیپلو پولیس کے پرائیویٹ ٹارچر سیل کے خلاف شکایات پر کھلی کچہری لگانے کے لیے اپنے آبائی گاؤں ڈیپلو پہنچے جہاں ان کی شاندار استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر ڈیپلو پولیس کے پرائیویٹ ٹارچر سیل سے عذاب سہہ کر آنے والے لوگوں اور شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے۔
ایس ایس پی تھرپارکر نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ڈیپلو کا واقعہ سامنے آتے ہی میں نے سب سے پہلے سی آئی اے انچارج مبارک راجڑ کو تفتیش کے لیے بھیجا تھا۔ بعد میں لوگوں نے اس پر بھی اعتراض کیا جس کے بعد میں نے ڈی ایس پی ماجد قائم خانی کو جائے وقوعہ کا معائنہ کرنے کو کہا۔ ڈی ایس پی نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور مجھے رپورٹ دی جس کے بعد میں نے ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کر کے مقدمہ درج کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان رمضان کھوسو کے قتل کا میں ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں۔ ملوث اہلکاروں کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ہماری ٹیمیں ڈیپلو، عمرکوٹ اور کراچی میں تعینات کی گئی ہیں۔ ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہیں بند گلی میں کھڑا کیا جائے گا اور انہیں ضمانت کروانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
نجی ٹارچر سیل سے متعلق شکایت پر انہوں نے کہا کہ تفتیش جاری ہے، مجھے کچھ وقت دیں، عدالت بھی 17 دن کا وقت دیتا ہے۔ ملوث تمام ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے مطالبہ کیا کہ شیر خان لغاری کو ہمیں ایس ایچ او دیا جائے جس پر ایس ایس پی نے کہا کہ میں خود ایس ایچ او تعینات کروں گا اور آپ کو ایک شخص دیا جائے گا جو ایماندار ہوگا۔
ایس ایس پی تھرپارکر نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ دو تین سال پہلے دھرنا دیا تھا لیکن حسین بخش راجڑ نہیں چھوڑ سکے، جسے میں نے ہٹا دیا ہے، جلد گرفتار کروں گا۔
ایس ایس پی نے عوام کی شکایات پر ڈیپلو شہر میں قائم غیر قانونی وائین شاپ کو بند کرنے کا حکم دیا۔ اور واعدہ کیا کہ یہ اب نہیں کھلے گا۔



