ڈی ایس ریلویز سکھر ڈویژن جمشید عالم کاسکھر پریس کلب کا دورہ

سکھر(جانو ڈاٹ پی کے)ڈی ایس ریلویز سکھر ڈویژن جمشید عالم نے سکھر پریس کلب کا دورہ کیا، ڈی سی او ابرہیم بلوچ، ڈی ٹی او محسن سیال اور ڈی این ون جہانزیب انکے ہمراہ تھے
صدر پریس کلب آصف ظہیر خان لودھی ،جنرل سیکرٹری امداد بوزدار ،یونین کے نائب صدر خالد بھانبھن، سیکریٹری جاوید جتوئی خازن کامران شیخ سمیت دیگر عہدیداران نے انکا پرتپاک خیرمقدم کیا
مہمانوں کو تحفتاً سندھی اجرک پہنائی گئی،ڈی ایس ریلویز اور دیگر ریلوے افسران نے پریس کلب کے عہدیداران اور ممبران سے ملاقات کی اور پریس کلب ، ایس یو جے ،فوٹو جرنلسٹس کے دفاتر کانفرنس ھال سمیت مختلف شعبوں آڈیٹوریم کو دیکھا اور تعریف کی ،بعد ازاں ڈی ایس ریلویز نے میٹ دی پریس سے خطاب کیا اور صحافیوں کو سکھر ریلوے کی جانب سے جاری اور مجوزہ منصوبوں پر جامع بریفنگ دی۔
ڈی ایس ریلویز نے میٹ دی پریس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھر ڈویژن پاکستان ریلوے کا نہایت اہم اور وائٹل ڈویژن ہے جہاں مختلف بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان کے مطابق روہڑی جنکشن کا نیا منصوبہ ایک ارب روپے کی لاگت سے منظور ہو چکا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے تین مزید منصوبے بھی دیے گئے ہیں جن میں سیفٹی اور ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سکھر ڈویژن کے افسران ریلوے کے ہر شعبے کی باریک بینی سے نگرانی کر رہے ہیں۔ ڈی ایس کے مطابق آئی ٹی ایس ڈبلیو ٹریک پر کام جاری ہے، پرانے سلیپر تبدیل کیے جا رہے ہیں۔سکھر ایکسپریس اپنے مقررہ وقت پر کراچی روانہ ہوتی ہے اور جلد اس کے لیے نیا ریک بھی فراہم کیا جائے گا۔
مزید بتایا کہ خانپور سے ٹنڈو آدم تک ریلوے ٹریک پر کام شروع کر دیا گیا ہے اور عوامی سہولت کے لیے روہڑی سکھر کے درمیان لوکل ٹرین چلانے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تمام سفری سہولیات کے ساتھ ساتھ ٹرینوں کی سیفٹی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ڈی ایس جمشید عالم نے بتایا کہ روہڑی جنکشن پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گی جبکہ سہولیات میں بہتری کیلئے ایکسلیریٹر بھی نصب کیے جائیں گے۔اس موقع پر موجود جرنلسٹس نے ڈی ایس ریلویز کو سکھر ایکسپریس سمیت ٹرینوں کی زبوں حالی، روانگی کی ٹائمنگ ، ریلوے نجکاری، ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر، بقایا جات کی عدم ادائیگی، کچے ملازمین کو مستقل نہ کیا جانے سمیت کیا جانے شہریوں ریلوے ملازمین کو درپیش شکایات اور تحفظات سے آگاہ کیا۔



