رمضان قتل کیس،ڈیپلو پولیس قاتل قرار،ایس ایچ او سمیت 5افراد کیخلاف مقدمہ درج

لواحقین کا تھرکول روڈ پر لاش رکھ کر دھرنا،ٹریفک معطل

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)ڈیپلوکڈھن روڈ پر علی بندر کے قریب قتل کیے جانے والے رمضان کھوسو کے جسم سے11گولیاں ملیں۔لاش پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی جس کے بعد ورثا نے لاش ڈیپلو سے مٹھی لے کر تھرکول روڈ پر دھرنا دیا۔دھرنے کے باعث میرپورخاص،نوکوٹ اور کراچی سے براستہ بدین آنے والی ٹریفک معطل ہوگئی اور ہزاروں گاڑیاں سڑک کے تین اطراف کھڑی ہوگئیں۔احتجاج میں شامل لوگوں نے پولیس اور منتخب نمائندوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

نوجوان کے قتل کے بعد تھرپارکر میں سوگ کی کیفیت

دھرنے میں شریک متوفی کے ورثاء کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی رکوانہ ہوتی تو وہ ٹائر برسٹ کر سکتے تھے لیکن پولیس ہمارے خالی ہاتھ نوجوان پر گولیاں چلائیں۔مارنے کے بعد اس کو کار میں بند کر لیا اور وہاں سے چلے گئے۔

مقتول کے بھائی کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ قبل ایس ایچ او ڈیپلو نے رمضان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور اس نے ظاہر کیا تھا کہ ایس ایچ او اور پولیس اہلکار ہمارے نوجوان کے قاتل ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک ان کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاتا وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔

رمضان مقتول مامرہ: ایس ایچ ڈیپلو سمیت 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

ورثا کے احتجاج کے بعد ایس ایچ او سمیت5افراد کے خلاف ڈیپلو تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔مقتول نوجوان رمضان کھوسو کے بھائی کی شکایت پر ایس ایچ او ڈیپلو حسین بخش راجڑ، ڈرائیور لال محمد، پولیس افسر شوکت راھمون پولیس افسر پرکاش میگھواڑ اور ایک شہری پھلاج میگھواڑ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ڈیپلو تھانے میں عبدالسلام ولد لکھا ڈنو کھوسو گاؤں پیر بخش کھوسو تحصیل و ضلع بدین کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار کالے رنگ کی گاڑی میں تھے۔متوفی رمضان ولد لکھا ڈنو سفید رنگ کی آلٹو کار چلا رہا تھا کہ پولیس کانسٹیبل شوکت علی راھمون نے رائفل سے فائرنگ کر دی جس سے رمضان زخمی ہو گیا اور وہ کالی کرولا کار میں واپس فرار ہو گیا۔انسپکٹر حسین بخش راجڑ کے پاس پستول اور شوکت راھموں کے پاس رائفل تھی۔ملزم کے خلاف ڈیپلو تھانے میں مقدمہ نمبر 69/2025، دفعہ 302/147/148/149/114/34ppc کے تحت درج کیا گیا ہے۔

مقتول رمضان کے جسم سے11گولیاں ملیں، ابتدائی رپورٹ،پولیس ہی قاتل ہے،وارث

ڈیپلو کے قریب قتل ہونے والے رمضان کھوسو کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسے اندھا دھند فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، متوفی کے جسم سے11گولیاں نکلی ہیں، جب کہ تفصیلی رپورٹ چند روز میں منظر عام پر لائی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق نوجوان کو براہ راست نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ فائرنگ سے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ حملہ گاڑی کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ نوجوان کو مارنے کے لیے کیا گیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button