میرپورخاص:سنی رابطہ کونسل کی 34ویں ختمِ نبوت و دفاعِ صحابہ و اہلِ بیت کانفرنس،علماء کے ولولہ انگیز خطابات

میرپورخاص (رپورٹ شاھد میمن) سنی رابطہ کونسل میرپورخاص کے زیرِ اہتمام 34 ویں عظیم ختمِ نبوت و دفاعِ صحابہ و اہلِ بیت کانفرنس نہایت شان و شوکت اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مولانا ثناء اللہ حیدری،مولانا عبدالجبار حیدری ،مولانا رب نواز حنفی ،مولانا عبداللہ سندھی میرپورخاص اور گردونواح کے مختلف علاقوں سے علمائے کرام، مشائخ عظام، سماجی رہنماؤں، نوجوانوں اور عوام اہلسنت کی بڑی تعداد نے اس عظیم الشان کانفرنس میں شرکت کی۔کانفرنس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔کانفرنس کے مرکزی اور خصوصی خطاب حضرت مولانا محمد احمد لدھیانوی نے فرمایا-جن کے خطاب کا شرکائے کانفرنس نے خیر مقدم کیا۔کانفرنس ختم نبوت ﷺ اور عظمتِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔اس عظیم الشان کانفرنس سے حضرت مولانا محمد احمد لدھیانوی نے اپنے تاریخی اور ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ختمِ نبوت محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کی وحدت، ایمان اور دین کی بنیاد ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں،ل آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور جو کوئی اس عقیدے میں شکوک پیدا کرے وہ امت کے عقیدے پر حملہ کرتا ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ہر میدان میں ڈٹ کر کھڑے ہوں۔انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ وہ مقدس جماعت ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا، قرآن کی آیات کو عملی شکل دی، دین ہم تک پہنچایا۔ ان کی ذات پر زبان درازی درحقیقت دینِ اسلام پر حملہ ہے۔ ہم صحابہؓ کی عزت و حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ امتِ مسلمہ کا ایمان ہے کہ صحابہؓ سچے، بہادر، اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ ان کے بغیر دین کی کوئی عمارت قائم نہیں ہوسکتی۔نہوں نے  کہا کہ اہلِ بیتِ رسول ﷺ کی محبت ہمارے ایمان کی تکمیل ہے۔ سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ، حسنین کریمینؓ اور آلِ رسولؐ کی عظمت ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے۔ صحابہؓ اور اہلِ بیتؓ کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا دراصل دشمنانِ اسلام کی سازش ہے۔ صحابہؓ اور اہلِ بیتؓ دونوں اسلام کی روشن دلیلیں اور ہدایت کے مینار ہیں۔مولانا محمد احمد لدھیانوی نے کہا کہ آج امت جن آزمائشوں سے گزر رہی ہے، ان میں سب سے بڑی آزمائش انتشار ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ نفرت، فرقہ واریت اور غلط پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں۔ ہم نے ہمیشہ اتحادِ امت، اخوتِ اسلامی اور رواداری کا درس دیا ہے۔ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی فضا ختم کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان اسلام کا عظیم سرمایہ ہے۔ اسے عشقِ رسول ﷺ، محبتِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ اور تحفظِ ختمِ نبوت کے پیغام سے مضبوطی سے جوڑنا ہوگا۔ کانفرنسیں اسی مقصد کے لیے ہوتی ہیں کہ نئی نسل اپنی اصل پہچان اور اپنے دینی ورثے کا شعور حاصل کرسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے، اسے بدامنی، انتشار اور فرقہ واریت سے محفوظ رکھنا ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس سرزمین پر امن، رواداری، محبت اور بھائی چارے کی فضا مضبوط ہو۔دفاعِ پاکستان، دفاعِ ناموسِ رسالت ﷺ، دفاعِ صحابہؓ و اہلِ بیتؓ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔خر میں انہوں نے دعا کرائی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان، امتِ مسلمہ، علما اور تمام شرکائے کانفرنس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔کانفرنس دعائے خیر، سلامتیِ وطن اور اتحادِ امت کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ عوام کی بڑی تعداد دیر تک موجود رہی اور منتظمین کو تاریخی کانفرنس کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا-اس موقع پر صدر سنی رابطہ کونسل ضلع میرپورخاص قاری عبدالرشید، جنرل سیکرٹری حافظ احتشام الح،اسداللہ نوحانی،خادم حسین نوحانی،حاجی خلیل احمد فاروقی،غلام محمد مہر۔سراج احمد چوہان،ریاض ملک اور دیگر زمہ داران بھی موجود تھے-

مزید خبریں

Back to top button