پاکستان اور تاجکستان کے مابین رابطوں کی کمی تجارت کی راہ میں سب سے سنگین رکاوٹ ہے،تاجک سفیر /صدر ر کراچی چیمبر دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کی ضرورت پر ہے

کراچی (آن لائن) تاجکستان کے سفیر عصمت اللہ نصرالدین اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ادریس نے پاکستان اور تاجکستان کے مابین رابطوں کی کمی کو تجارت کی راہ میں حائل سب سے سنگین رکاوٹ قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس سے سفر کا دورانیہ 22 گھنٹے سے کم ہو کر صرف ایک گھنٹہ 20 منٹ رہ جائے گا کیونکہ فی الوقت مسافروں کو دوشنبہ پہنچنے کے لیے دبئی یا استنبول سے پروازیں لینی پڑتی ہیں۔ تاجک سفیر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس میں تاجک سفیر اور صدر کے سی سی آئی کی رائے کے مطابق جغرافیائی لحاظ سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب ہیں اور ان کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانے کے بہت زیادہ صلاحیت موجودہے لیکن یہ صلاحیت ابھی تک استعمال میں نہیں لائی گئی کیونکہ رابطوں کا فقدان سب سے سنگین رکاوٹ ہے جودونوں کو ایک دوسرے کے زیادہ دور کررہا ہے۔ اجلاس میں تاجکستان کے اعزازی قونصل جنرل ارشاد قاسم علی، صدر کے سی سی آئی محمد ادریس، نائب صدر قاضی زاہد حسین، سابق صدر عبداللہ ذکی، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز اینڈ ایمبیسیز لائژن کمیٹی ضیاء العارفین، سابق نائب صدر شمس الاسلام خان اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔تاجک سفیر نے بتایا کہ وہ اگلے ہفتے پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ساتھ اجلاگے اور اس کے بعد تاجک سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی اس مسئلے پر بات کریں گے تاکہ اس اہم مسئلے کو حل کیا جا سکے کیونکہ تاجروں کے لیے دوشنبہ پہنچنے کے لیے 22 گھنٹے کا سفر کرنا ممکن نہیں جو پاکستان سے ڈیڑھ سے بھی کم دوری پر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان بہترین تعلقات قائم ہیں اور پاکستان سیاسی تعلقات، سیکورٹی، اقتصادی و ثقافتی تعاون کے حوالے سے تاجکستان کا قابل اعتماد پارٹنر ہے تاہم بہت سے دیگر مسائل ہیں جن پر ہمیں قابو پانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت 94ملین ڈالر کے عروج پر تھی لیکن تب سے یہ مسلسل گر رہی ہے اور 2020 میں 25 ملین ڈالر تک گر گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال جون میں تاجکستان کے صدر کے دورہ پاکستان اور ستمبر میں پاکستانی وزیر اعظم کے دورہ تاجکستان کے دوران 22 دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ 30 سالوں کے دوران مجموعی طور پر 77 دو طرفہ دستاویزات پر دستخط کیے ہوئے ہیں جن میں سے 50 سے زائد دستاویزات اقتصادی شعبے سے متعلق ہیں لیکن بدقسمتی سے ان دستاویزات میں سے صرف 10 فیصد کارآمد ہیں جبکہ بقیہ 90 فیصد دستاویزات صرف کاغذ ی کارروائی تک ہی محدود رہے۔ انہوں نے بتایاکہ تاجک تاجر پاکستانی تاجروں کے ساتھ کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے بارے میں معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہیں ہو پارہا جو تجارت میں رکاوٹ کا باعث بننے والا ایک اور مسئلہ ہے۔ تاجک سفیر نے مزید کہاکہ تاجکستان کے لیے کراچی بندرگاہ تجارت کے حوالے سے مثالی ہے کیونکہ یہ دوشنبہ سے صرف 2200 کلومیٹر دوری پر ہے اور بہت سستی پڑتی ہے۔ کراچی پورٹ سے شپمنٹ کی لاگت تقریباً 3000 ڈالر ہے جو جارجیا کے پوٹی بندرگاہ سے 10000 ڈالر کی شپمنٹ لاگت کے مقابلے میں تین گنا کم ہے جسے افغانستان میں مشکلات کی وجہ سے تاجک تاجر وں کو استعمال کرنا پڑتا ہے۔ہم تاجکستان کی کچھ کھیپوں کو گوادر پورٹ پر منتقل کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں کیونکہ کراچی پورٹ کافی مصروف ہے۔ تاجکستان کے لیے گرم پانیوں تک پہنچنے کا واحد قابل عمل امکان پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے ہے۔تاجک سفیر نے کراچی چیمبر سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ شراکت داروں اور امکانات کو تلاش کرنے کے لیے تاجکستان کے دورے کے لیے وفد تشکیل دیں جو تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعاون کو بہتر بنانے کا بہترین اور واحد راستہ ہے۔ تاجک سفارت خانہ وفد کوتمام تر سہولیات فراہم کرے گا اور ہم نہ صرف دارالحکومت بلکہ دیگر شہروں میں بھی زیادہ سے زیادہ دوروں اور ملاقاتوں کا اہتمام کریں گے باالخصوص تاجکستان کے 6اقتصادی زونز جہاں کوئی ٹیکس یا ڈیوٹی لاگو نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم تاجر نہیں ہیں اور نہ ہی ہم اقتصادی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ہم سفارت کار ہیں اور ہمارا کام اپنے ملک کے ہم منصبوں کے ساتھ آپ کا رابطہ قائم کرنا، ابتدائی معلومات فراہم کرنا، سفری سہولیات فراہم کرنا ہے اور اب اگلا قدم آپ اور تاجکستان میں آپ کے شراکت دار اٹھائیں گے۔کے سی سی آئی کے صدر محمد ادریس نے تاجک سفیر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوستانہ دوطرفہ تعلقات قائم ہیں جہاں گزشتہ چند سالوں کے دوران دونوں ممالک کی باہمی تجارتی حجم میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ 2021 کے دوران پاکستان نے 17.09 ملین ڈالر کی اشیاء برآمد کیں جو کہ 2020 کے دوران 11.55 ملین ڈالر کے مقابلے میں 47.92 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔تاجکستان سے درآمدات 15.2 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں جبکہ 2020 میں 14.24 ملین ڈالر کی درآمدات میں 6.73 فیصد کا اضافہ ہوا۔انہوں نے 32 ملین ڈالر کے تجارتی حجم کو بہت کم قرار دیا جس پر خصوصی توجہ اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔صدر کے سی سی آئی نے موجودہ تجارتی حجم کو بہتر بنانے کے لیے مختلف مصنوعات اور اجناس کی تجارت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنے کی تجویز پیش کی جس میں آئرن یا اسٹیل کی فلیٹ رولڈ مصنوعات، ٹریکٹرز، آرگینک سرفیس ایکٹیو ایجنٹس، ٹیوبس، پائپس، ایلومینیم، کیلے، چینی، کنفیکشنریز، مالٹ ایکسٹریکٹ، گندم، چاول، کنولا آئل، فرٹیلائزر، زرعی مصنوعات اور بہت سی دوسری چیزیں شامل ہیں۔ انہوں نے تاجک سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے سی پیک میں کاروباری مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی لیں۔محمد ادریس نے تاجک تاجر برادری کو کے سی سی آئی کی کراچی ایکسپو سینٹر میں 13 سے 15 مئی 2022 تک ہونے والی ”مائی کراچی“ نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ یہ میگا ایونٹ تاجروں کو بی ٹو بی میٹنگز کے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے اور تجارت کے فروغ کے لیے ون ونڈو کی سہولت بھی فراہم کرتا ہ



