مچھرآئس لینڈ بھی پہنچ گیا،مقامی باشندہ دیکھ کر حیران

لاہور(jano.pk)مچھر ایسے کیڑے ہیں جو ہر سال دنیا بھر میں متعدد افراد کو بیمار کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

مگر زمین کے 2 خطے ایسے ہیں جہاں آج تک مچھروں کو دریافت نہیں کیا گیا تھا، جن میں سے ایک براعظم انٹار کٹیکا اور دوسرا یورپی ملک آئس لینڈ ہے۔

مگر اب تاریخ میں پہلی بار آئس لینڈ میں مچھروں کو دریافت کیا گیا ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے یہ ملک بھی ان کیڑوں کے لیے قابل رہائش خطہ بن گیا ہے۔

سائنسدانوں کی جانب سے کچھ عرصے قبل پیشگوئی کی تھی کہ مچھر بہت جلد آئس لینڈ میں نظر آسکتے ہیں، مگر اس کیڑے کی متعدد اقسام اس یورپی ملک کے سخت سرد موسم میں زندہ نہیں رہ سکیں گی۔

آئس لینڈ کا موسم اب گرم ہو رہا ہے اور شمالی نصف کرے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں وہاں درجہ حرارت میں اضافہ 4 گنا زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے۔

گلیشیئر پگھل رہے ہیں اور گرم پانیوں میں پائی جانے والی مچھلیوں کو بھی وہاں دریافت کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جیسے جیسے ہمارا سیارہ گرم ہو رہا ہے، مچھروں کی مزید اقسام دنیا کے بھر میں دیکھنے میں آئی ہیں۔

2025 میں برطانیہ میں مصر میں پائے جانے والے مچھروں کے انڈے دریافت ہوئے جو کہ ڈینگی اور ایسی دیگر بیماریوں کو پھیلاتے ہیں۔

نیچرل سائنس انسٹیٹیوٹ آف آئس لینڈ کے ماہر میتھائس الفروسن نے آئس لینڈ میں مچھروں کی دریافت کی تصدیق کی۔

انہوں نے ان کیڑوں بذات خود شناخت کیا۔

انہوں نے بتایا کہ آئس لینڈ کے علاقے Kiðafell میں مچھروں کی 3 اقسام کو دیکھا گیا۔

مچھروں کی یہ اقسام سرد علاقوں میں نظر آتی ہیں اور آئس لینڈ کے موسم میں زندہ رہ سکتی ہیں۔

سائنسدان اب تک یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آخر یہ مچھر کیسے آئس لینڈ تک پہنچے، مگر ان کے خیال میں ایسا بحری جہاز یا کارگو کنٹینرز سے ممکن ہوا۔

مزید خبریں

Back to top button