سندھ میں کچے کے 72ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیئے

شکارپور(رپورٹ :سیف مصطفیٰ )سندھ میں کچے کے 72ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیئے.ایس ایس پی آفس شکار پور میں حکومت سندھ کا کامیاب امن مشن سرینڈر پالیسی ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے اور خود کو قانون کے حوالے کرنے سے متعلق تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس خصوصی تقریب میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ،دیگر شرکاء میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ڈی آئی جی لاڑکانہ سمیت رینجرز سندھ کے افسران و دیگر نے شرکت کی۔تقریب میں رکن سندھ اسمبلی جنگلات منسٹر بابل بھیو، امتیاز احمد شیخ، شہریار مھر، عارف مھر، عابد بھیو، گل محمد جکھرانی، ڈاکٹر ابراھیم جتوئی اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی شرکت کی۔
وزیر داخلہ سندھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ سرینڈر پالیسی کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے اور اس ضمن میں شکارپور پولیس اور یہاں کے باشندگان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔اس موقع پر میں مختلف سرداروں کو بھی سراہتا ہوں کہ جنہوں نے سرینڈر پالیسی میں حکومت اور پولیس سے تعاون کیا جبکہ میں سرینڈر ہونے والوں سے بھی کہتا ہوں کہ انہوں نے انتہائی احسن اقدام کیا اور خود کو قانون کے حوالے کیا کیونکہ آپ کے دل میں اچھا اور قانون پسند شہری بننے کی خواہش ہے اپنی سزا مکمل ہونے کے بعد آپ تمام اس شہر اور ملک کے امن پسند شہریوں کا حصہ بن جائیں گے۔تاہم میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی اس پالیسی کے تحت مستفید ہونے کا مشورہ دیں تاکہ کچہ ایریاز میں آپ لوگوں کی فیملیز کو بینظیر انکم سپورٹ کارڈز روڈ انفراسٹرکچر تعلیم صحت اور جانوروں کا اسپتال اور بے گھر ہاریوں کو زمینوں کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔
انہوں نے سرینڈر کرنیوالوں سے کہا کہ حکومت سندھ چاہتی ہے آپ کے بچوں کو تعلیم دیں اور انکا مستقبل روشن کریں، سندھ میں امن نا صرف حکومت کی کوشش بلکہ بلاول بھٹو کا وژن بھی ہے ،محترمہ فریال تالپور بھی امن و امان کے استحکام کیلئے ہر ممکن سنجیدہ اقدامات میں پیش پیش ہیں میں ۔انہوں نے کہا کہ جرائم کیخلاف بہترین ایکشن پر میں پولیس اور رینجرز کے افسران و جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔
سندھ میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کا دورانیہ 40سال پر محیط ہے،آئی جی
آئی جی سندھ نے کہا کہ سندھ میں امن امان کے حالات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں سندھ میں اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کا دورانیہ 40سال پر محیط ہے جو اب جاکر نہ صرف تھما ہے بلکہ تقریباً ختم ہوچکا ہے اور ڈاکوؤں سے بھرا ہوا علاقہ اب سارے کا سارا کلیئر ہوگیا ہے ہنی ٹریپ 2012 سے شروع ہوا جو اب جاری ہے تاہم مجرمانہ سرگرمیاں کم ہوئی ہیں جسکا سبب گرفتار اور ہلاک ملزمان کی تعداد میں اضافہ ہونا ہے، پولیس ایکشن کےدوران171ڈاکو مارے گئے ہین اور 421 زخمی حالت مین گرفتار کئے گئے ہیں۔یہ کامیابی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے جس پر میں لاڑکانہ رینج پولیس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
سیکٹر کمانڈر رینجرز نے کچے کے علاقہ میں ڈاکوؤں کی خلاف پولیس اور رینجرز کے مشترکہ اقدامات اور کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا حکومت سندھ اور پولیس سے ہرممکن تعاون اور سپورٹ کی یقین دہانی کرائی۔



