پاکستان امریکا کی قربت،چین کو پریشانی کیا ہے؟

پاکستان اب کی بارچین،امریکا،سعودی عرب کی آنکھ کا تارا ہے!

لاہور(سپیشل رپورٹ جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مشرق(چین)اورمغرب(امریکا) کے درمیان توازن رکھنے کی کوشش رہی ہے۔ چین پاکستان کا دیرینہ دوست،اقتصادی پارٹنراوردفاعی اتحادی ہے۔امریکا فوجی امداد، ڈپلومیسی، ٹیکنالوجی اوربین الاقوامی اثر و رسوخ کا مرکزہے۔

2025میں پاکستان کی نئی حکومت نے ایک بار پھر امریکاسےقریبی تعلقات بڑھانے کے اشارے دیے۔جن میں معاشی تعاون،سکیورٹی اشتراک اورآئی ایم ایف پالیسی سپورٹ شامل ہے۔یہی قربت چین کیلئے کچھ خدشات پیدا کر رہی ہے۔Pakistan PM Shehbaz Sharif, President of China Xi Jinping agree to upgrade CPECچین کو پاکستان-امریکاقربت سے کیا خطرات ہیں؟

سی پیک (CPEC) کا مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔سی پیک چین کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کا حصہ ہے۔اگر پاکستان امریکاکے زیر اثر مغربی بلاک کے قریب ہو جائے، توسی پیک کو نظر انداز یا سست کیا جا سکتا ہے۔امریکا  بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا شدید ناقد ہے اور وہ خطے میں چین کی سرمایہ کاری کو سٹریٹیجک خطرہ سمجھتا ہے۔

کیا پاکستان امریکی دباؤ میں آ کر سی پیک پر نظرثانی کرے گا؟

امریکااور پاکستان کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کی تاریخ رہی ہے (خصوصاً دہشتگردی کیخلاف جنگ میں)۔اگر یہ دوبارہ فعال ہو جائےتوچین کو خدشہ ہے کہ گوادر پورٹ، چین کی کمپنیوں یا منصوبوں کی معلومات امریکاتک پہنچ سکتی ہیں۔امریکا خطے میں چین کی موجودگی، بیسز اور سرمایہ کاری کو قریب سے مانیٹر کرنا چاہتا ہے۔PM Shehbaz meets Trump, discusses regional security, counterterrorism in landmark visit to White House - World - DAWN.COM

پاکستان،کہیں امریکاکی آنکھ نہ بن جائے؟

آئی ایم ایف ، عالمی بینک اور دیگر مغربی مالیاتی ادارے اکثر پاکستان کو ایسی اصلاحات کا کہہ چکے ہیں جن سے چین کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔مثال کے طور پر سی پیک کی فنانسنگ پر شفافیت،چینی کمپنیوں کو ٹیکس یا معاہدہ  پر نظرثانی وغیرہ۔پاکستان کی معیشت اگر مکمل طور پر مغرب پر انحصار کرے تو چین کا اثر کم ہو جائے گا۔

چین خطے میں بھارت کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے پاکستان کو ایک سٹریٹجک اتحادی کے طور پر دیکھتا ہے۔اگر پاکستان امریکاکے قریب جائے اور امریکابھارت کا بھی سٹریٹیجک پارٹنر ہےتوچین کیلئے یہ تین کونوں کی پالیسی خطرناک ہو سکتی ہے۔چین کو لاحق خطرات میں یہ بھی شامل ہے کہ ”پاکستان کہیں غیر جانبدار سے امریکی حلیف نہ بن جائے”۔

پاکستان کی محتاط ڈپلومیسی

پاکستان کوشش کر رہا ہے کہ امریکا سے معاشی اور سیاسی فائدہ اٹھائےاورچین کیساتھ سٹریٹجک دوستی قائم رکھے،کسی ایک بلاک کی طرف واضح جھکاؤ نہ کرے۔عالمی سیاست میں غیر جانبداری ایک نازک کھیل ہوتا ہےلیکن پاکستان اس کو اچھی طرح سی فی الحال ہینڈل کررہا ہے۔پاکستان کو انتہائی محتاط سفارتکاری کی ضرورت ہےتاکہ وہ امریکاسے فائدہ اٹھاتے ہوئے چین کو ناراض نہ کرے۔

پاکستان کہیں غیر جانبدار سے امریکی حلیف نہ بن جائے

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین اور پاکستان ہر موسم کے سٹریٹیجک شراکت دار ہیں،دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی وقت کی کڑی آزمائشوں پر پوری اتری ہے۔

پاکستان امریکا تعلقات سے ہمارے باہمی تعاون کو نقصان نہیں ہوگا،چین کا دو ٹوک اعلانPakistan PM meets Saudi Crown Prince in Doha, pledges all-out diplomatic support after Israeli attack | Arab News PK

مزید خبریں

Back to top button