نیتن یاہو غزہ سمٹ میں شریک کیوں نہ ہوئے؟ وجہ سامنے آگئی

تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے شرکت نہ کرنے سے متعلق غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ترکی اور عراق کی جانب سے شرکت کی مخالفت کے بعد غزہ سمٹ میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، ترکی کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دیگر رہنماؤں کی حمایت کے ساتھ نیتن یاہو نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
غزہ کی جنگ ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کے لیے عالمی رہنما مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں جمع ہوئے جہاں اس اجلاس کی مشترکہ صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کی۔
ابتدائی طور پر مصری صدارت نے نیتن یاہو کی شرکت کی تصدیق کی تھی، تاہم تقریباً 40 منٹ بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ وہ یہودی تہوار سمحات تورہ کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکیں گے۔
ترک میڈیا کے مطابق، صدر اردوان کو نیتن یاہو کی متوقع آمد کی اطلاع اس وقت ملی جب وہ شرم الشیخ پہنچنے والے تھے۔ ان کے طیارے نے سرخ سمندر کے اوپر چکر لگایا اور اس وقت تک لینڈنگ نہیں کی جب تک یہ تصدیق نہ ہو گئی کہ نیتن یاہو اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب، عراقی وزیرِ اعظم شیا السودانی کے مشیر علی الموسوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ عراق نے واضح کر دیا تھا کہ اگر نیتن یاہو شریک ہوئے تو عراقی وفد اجلاس میں شامل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عراق نے اپنا مؤقف واضح طور پر مصر کو بتا دیا تھا اور دیگر کئی وفود نے بھی عندیہ دیا کہ وہ نیتن یاہو کی موجودگی میں اجلاس چھوڑ دیں گے۔
ان کے مطابق، اس کے بعد قاہرہ نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ انہیں اجلاس میں خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا جس کے نتیجے میں ان کی شرکت منسوخ کر دی گئی۔



