سرحدی جارحیت الٹی پڑ گئی

لاہور(سپیشل رپورٹ)حالیہ مہینوں میں پاک-افغان سرحدی کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوئی ہے، جہاں افغان طالبان نے پاکستان کی سرحدی خودمختاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی لیکن  ان کا یہ اقدام نہ صرف ناکام ہوا بلکہ طالبان کیلئے  مہنگا بھی ثابت ہوا، پاکستانی فوج نے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف طالبان کے حملوں کو پسپا کیا بلکہ تقریباً20 سرحدی چیک پوسٹو ں پر بھی قبضہ کرلیا۔

افغان طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد افغانستان نے پاکستان کے ساتھ متعدد امور پر سخت مؤقف اپنایا، جن میں سب سے نمایاں ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ اور ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کی پشت پناہی کے الزامات ہیں۔ پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو خبردار کیا کہ اس کی سرزمین پاکستان مخالف گروہوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے، مگر مؤثر اقدامات نہ ہونے کی صورت میں کشیدگی بڑھتی گئی۔

طالبان کی غلط فہمی

افغان طالبان نے شاید پاکستان کی نرمی اور صبر کو کمزوری سمجھا۔ انہوں نے یہ گمان کر لیا کہ پاکستان کسی بڑے ردعمل سے گریز کرے گا، خصوصاً اس لیے کہ وہ ایک نیوکلیئر پاور ہے اور عالمی برادری کے ردعمل سے محتاط رہتا ہے۔ لیکن پاکستانی فوج نے نہایت پیشہ ورانہ انداز میں واضح کر دیا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

پاکستانی فوج کا ردعمل

طالبان کی طرف سے سرحدی چیک پوسٹوں پر قبضے کی کوشش کی گئی، جس کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے منظم جوابی کارروائی کرتے ہوئے طالبان کو بھاری نقصان پہنچایا۔ یہ کارروائیاں اس بات کا واضح پیغام تھیں کہ پاکستان اپنے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔

علاقائی و عالمی ردعمل

پاکستان کے اس مؤقف کو خطے اور دنیا بھر میں سراہا گیا کہ ایک خودمختار ریاست کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ چین، ترکی، سعودی عرب اور دیگر قریبی اتحادیوں نے پاکستان کی خودمختاری کے حق میں آواز بلند کی۔ دوسری طرف، افغان طالبان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ سرحدی کشیدگی میں اضافہ نہ کریں ورنہ علاقائی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button