افغان وزیر خارجہ کا دہلی میں کشمیر پر بیان زمینی اور تاریخی حقائق سے متصادم ہے، متحدہ جہاد کونسل

مظفر آباد(jano.pk)متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ امارات اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ کا دہلی میں بیٹھ کر مقبوضہ کشمیر کے بارے میں دیا گیا بیان زمینی اور تاریخی حقائق کے ساتھ ساتھ دینی تقاضوں سے بھی متصادم ہے۔ یہ بیان مظلوم حریت پسند عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
سید صلاح الدین احمد نے متحدہ جہاد کونسل کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امیر خان متقی کا دہلی میں بیٹھ کر مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارتی موقف کی حمایت میں دیا گیا بیان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی اداروں کے فیصلوں کی کھلی نفی ہے،جن کی پاکستان اور بھارت دونوں نے تائید کی تھی۔ یہ بیان نہ صرف تاریخی حقائق سے انحراف ہے بلکہ دینی تقاضوں اور قومی غیرت کے بھی منافی ہے۔ ایک ایسی قوم جو 1947 سے اپنی آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے، جس تحریک کو پانچ لاکھ سے زائد شہدا کے خون سے سینچا گیا ہے، جہاں بھارتی مظالم اور جبر کے دلخراش مناظر آج بھی ہر طرف نظر آتے ہیں، اور جہاں مسلم اکثریتی ریاست کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے اقدامات زوروشور سے جاری ہیں، اسے چند حقیر مفادات کے لیے بھارت کا حصہ قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔
چیئرمین جہاد کونسل نے مزید کہا کہ جہاد افغانستان میں متعدد کشمیری نوجوانوں نے مجاہدین افغانستان کے ساتھ مل کر شہادت کا رتبہ حاصل کیا، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ مجاہدین افغانستان جہاد فی سبیل اللہ اور اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وقت آنے پر وہ کشمیر کی آزادی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔کشمیری عوام کی یہ توقع تھی کہ امارات اسلامیہ افغانستان ان کی جدوجہد میں شریک ہو کر اپنا دینی اور ایمانی فریضہ پورا کرے گی۔ خود افغان مجاہدین کے رہنماوں، جن میں سے کئی اب بھی زندہ ہیں، نے کہا تھا کہ جہاد افغانستان کی کامیابی اس وقت مکمل ہوگی جب مقبوضہ جموں و کشمیر آزاد ہوگا اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی سرحد حائل نہ ہوگی۔ دونوں ممالک مل کر سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کریں گے۔
سید صلاح الدین احمد نے کہا کہ افغان وزیر خارجہ کا یہ بیان انتہائی تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔ چند حقیر مفادات کے لیے ہندوتوا حکومت کو خوش کرنے کی کوشش ایک محکوم و مظلوم قوم کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ اس طرح کے رویوں سے اجتناب ناگزیر ہے۔



