ایک نیکی، ایک زندگی:بھوکے بچے سے یونیورسٹی گریجویٹ تک کا سفر
"سڑک سے یونیورسٹی تک: انسانیت کی جیت"

لاہور(جانو ڈاٹ پی کے)2006 میں ایک کمزور اور ناتواں بچہ، جسے بھوک اور غربت نے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا دیا تھا، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔ اس کی آنکھوں میں امید کی رمق تک باقی نہ تھی—تبھی ایک اجنبی عورت نے اس کی پیاس بجھائی، ہاتھ میں روٹی رکھی، اور سب سے بڑھ کر اسے جینے کا حوصلہ دیا۔
وقت نے کروٹ لی۔۔۔
2013 میں وہی بچہ، اب ایک صحت مند اور خوش لباس نوجوان بن چکا تھا۔ وہ اسی عورت کے ساتھ بیٹھا مسکرا رہا تھا، جس نے اسے بچپن میں سہارا دیا تھا۔ یہ منظر دعا، قربانی اور محبت کی طاقت کا گواہ تھا۔
اور پھر۔۔۔
2025 میں وہی بچہ اب ایک یونیورسٹی گریجویٹ ہے—چہرے پر اعتماد، دل میں خواب، اور مستقبل میں امید کی روشنی لیے کھڑا ہے۔ اس کے ساتھ کھڑی وہی مہربان عورت ہے، جو کبھی اسے سڑک سے اٹھا کر انسانیت کی مثال بنی۔ آج وہ اس کی کامیابی پر فخر سے مسکرا رہی ہے۔
یہ سچی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ”ایک نیکی کسی کی پوری دنیا بدل سکتی ہے”۔
یتیمی اور غربت قسمت کا فیصلہ نہیں—بلکہ انسانیت، دعا، اور محبت سے قسمت بدلی جا سکتی ہے۔



