حماس ،اسرائیل مذاکرات پہلا دور کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم، دوسرا آج ہوگا

غزہ میں جنگ بندی کے لیے فیصلہ کن پیش رفت ہو رہی ہے اور حماس کئی اہم معاملات پر رضامند ہو چکی ہے،امریکی صدر کا دعویٰ

الشرم الشیخ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور کسی بھی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوگیا، تاہم مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے فیصلہ کن پیش رفت ہو رہی ہے اور حماس کئی اہم معاملات پر رضامند ہو چکی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر کے شہر شرم الشیخ میں جاری مذاکرات میں پہلے دن جنگ بندی یا بڑے فیصلے کی سمت کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی۔ ٹرمپ منصوبے کے تحت فریقین نے صرف قیدیوں اور زیرحراست افراد کی رہائی کے ممکنہ اقدامات پر بات چیت کی۔

مصری اور قطری ثالث دونوں فریقوں کے ساتھ ایک ایسا طریقہ کار طے کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جس کے ذریعے قیدیوں کا تبادلہ ممکن بنایا جاسکے۔ پہلے دور کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ قیدیوں کے معاملے پر ابتدائی پیش رفت ممکن ہے، مگر جنگ بندی اور طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے فریقین ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم زبردست پیش رفت کر رہے ہیں حماس ان نکات سے متفق ہو رہی ہے جو انتہائی اہم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی رہنما بشمول ترک صدر رجب طیب اردوان اور اردن کے شاہ عبداللہ نے امن منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو یرغمالیوں سے متعلق کسی بھی معاہدے میں سخت مؤقف نہ اپنانے کی ہدایت نہیں دی لیکن مذاکرات کے تمام فریق مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں سات طیارے گرائے گئے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران ایک بار پھر تجارتی معاہدوں اور ٹیرف پالیسیوں کے ذریعے جنگیں روکنے کا دعویٰ دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے تجارت کے ذریعے سات جنگیں روکیں، ان میں سے ایک پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تھی، جس میں سات طیارے گرائے گئے تھے۔

مزید خبریں

Back to top button