دنیا کی نظریں مصر پر! حماس،اسرائیل مذاکرات آج شروع ہونگے، اسرائیلی فوجی سربراہ کی دوبارہ جنگ کی دھمکی

شرم الشیخ (مانیٹرنگ ڈیسک) حماس اور اسرائیل کے درمیان امریکی منصوبے کے تحت اہم مذاکرات آج شروع ہو رہے ہیں، جن میں یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینی قیدیوں کے تبادلے اور غزہ میں سیز فائر پر غور کیا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے واضح کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں گی اور فوجی تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

مصر میں الشرم الشیخ میں ہونے والے ان مذاکرات کی میزبانی مصر کر رہا ہے جبکہ امریکی ثالثی ٹیم، جس میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں، براہِ راست کردار ادا کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وفد کی قیادت اسٹریٹجک امور کے وزیر ران ڈرمر کر رہے ہیں۔ حماس کا وفد پہلے ہی مصر پہنچ چکا ہے جس کی قیادت خلیل الحیا کر رہے ہیں۔ قصر پر اسرائیل حملے میں محفوظ رہنے کے بعد وہ اتوار کو منظر عام پر آئے تھے۔

مذاکرات کا مقصد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبے کے ابتدائی مرحلے پر عملدرآمد ہے، جس میں سیز فائر، یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی قیدیوں کی آزادی شامل ہے۔

حماس نے مذاکرات سے قبل جاری بیان میں کہا کہ وہ جنگ ختم کرنے اور فوری طور پر قیدیوں کے تبادلے کے عمل کو شروع کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم اسرائیل کا مؤقف ہے کہ غزہ میں مکمل سیز فائر اسی صورت ممکن ہے جب حماس کو غیر مسلح کیا جائے اور سیکورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

ثالثی کی کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں،امریکی صدر ٹرمپ

امریکی حکام نے زور دیا ہے کہ فریقین کو فوری پیش رفت کرنی چاہیے۔ سابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ “تیکنیکی تفصیلات جلد طے کی جائیں” جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق آنے والے دنوں میں واضح ہوگا کہ حماس عملدرآمد کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ غزہ میں یرغمال بنائے گئے افراد بہت جلد رہا کر دیے جائیں گے کیونکہ ثالثی کی کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے میں زیادہ لچک کی ضرورت نہیں، کیونکہ سب فریقین بنیادی نکات پر متفق ہیں۔

ادھر عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے بین الاقوامی نگرانی میں غیر مسلح ہونے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم تنظیم کو بعض نکات پر تحفظات بھی درپیش ہیں جن پر آج کی بیٹھک میں بحث متوقع ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے غزہ کے جنوبی علاقے نیٹزاریم کوریڈور کے دورے کے دوران کہا کہ “کوئی باقاعدہ جنگ بندی نہیں، صرف آپریشنل صورتحال میں تبدیلی ہے۔” انہوں نے کہا کہ فوج کی کارروائیوں نے سیاسی سطح پر راستہ ہموار کیا ہے اور اگر سیاسی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو فوج دوبارہ لڑائی شروع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “آپریشن ختم نہیں ہوا، فوج کو ہر وقت چوکس اور جنگ کے لیے تیار رہنا ہوگا۔”

واضح رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کی ہدایات کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق اتوار کو بھی اسرائیلی حملوں میں 24 فلسطینی شہید ہو گئے۔

مزید خبریں

Back to top button