تحریک انصاف نے ہتھیار ڈال دیئے، 9 مئی کے کیسوں کا فیصلے تسلیم

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) تحریک انصاف نے اپنے سابقہ موقف سے ایک بار پھریوٹرن لیتے ہوئے 9 مئی کے مقدمات میں سنائے گئے فیصلوں کو خاموشی سے تسلیم کرلیا ہے اور نئے قائد حزب اختلاف کا نام فائنل کرلیا ہے۔
قبل ازیں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب ، سینٹ کے اپوزیشن لیڈر شبلی فراز اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بچھر کو دس دس سال کی سزائیں سنائی جانے کے بعد ان کی نااہلیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ رہنما کے لئے ہی قانونی جنگ لڑی جائے گی اور نئے قائدین حزب اختلات کا عمل آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔
معین ریاض قریشی کو  پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا گیا
تاہم اب تحریک انصاف نے خاموشی کے ساتھ معین ریاض قریشی کو  پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا۔ 
اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ احمدخان بچھر اپنا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور انہیں پوری پی ٹی آئی کی تائید حاصل ہے۔ 
واضح رہے 9 مئی کیس میں ملک احمدخان بچھر کی سزا اور  نااہلی کے بعد سے  پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی تھا۔ تاہم اب اس پر نئی نامزدگی کردی گئی ہے جس کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی کو باقاعدہ درخواست بھی جمع کرائی جائے گی۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کیسے اپوزیشن لیڈر بنایا جائے گا؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی نئے اپوزیشن لیڈران کا تقرر کیا جائے گا یا انہیں غیر فعال ہی رکھا جاناہے کیونکہ عمران خان نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی اور سینیٹر اعظم سواتی کو سینیٹ آف پاکستان میں اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس پر اس وقت سیاسی کمیٹی نے فوری عملدرآمد کی بجائے عمر ایوب اور شبلی فراز کے لئے جنگ لڑنے کا اعلان کیا۔ اب پنجاب اسمبلی میں نئے اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے بعد مرکز میں بھی نئے اپوزیشن لیڈران کی نامزدگی ہوسکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button