فلم "بول” کے متنازعہ ڈائلاگ پر حمائمہ ملک کا مفتی طارق مسعود سے رابطہ، اپنی غلطی کا اعتراف

واضح رہے کہ فلم "بول" 2011 میں ریلیز ہوئی تھی

کراچی (انٹرٹینمنٹ ڈیسک): کراچی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق معروف مذہبی مبلغ مفتی طارق مسعود نے انکشاف کیا ہے کہ اداکارہ حمائمہ ملک نے ان سے فون پر رابطہ کر کے فلم "بول” میں بولے گئے ایک متنازعہ ڈائلاگ پر اپنی غلطی تسلیم کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں مفتی طارق مسعود نے بتایا کہ حمائمہ ملک نے فلم "بول” میں اپنے والد کے کردار کو طعنہ دیتے ہوئے ڈائلاگ بولا تھا: "جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو؟” ان کے مطابق اس ڈائلاگ سے نوجوان نسل، خصوصاً لڑکیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور وہ اپنے والدین سے بغاوت کی طرف مائل ہوئیں۔

مفتی طارق مسعود نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت اپنے ایک بیان میں اس ڈائلاگ پر شدید ردعمل دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مکالمے خاندان کے ادارے کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ اسی بیان کے بعد حمائمہ ملک نے مولانا طارق جمیل سے رابطہ کرکے ان کا نمبر لیا اور انہیں فون کیا۔

مفتی طارق مسعود نے واضح کیا کہ وہ یہ بات اداکارہ کی اجازت سے بیان کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق حمائمہ ملک نے گفتگو کے دوران اعتراف کیا کہ فلم میں یہ ڈائلاگ ان سے لاعلمی میں بولا گیا، وہ اصل میں اسکرپٹ کا حصہ تھا جسے کسی اور نے تحریر کیا تھا۔

اداکارہ نے بتایا کہ بعض این جی اوز ایسی فلموں کی پشت پناہی کرتی ہیں تاکہ سماج میں مخصوص نظریات کو فروغ دیا جا سکے۔ مفتی طارق مسعود کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہوئی کہ حمائمہ ملک نے اپنی غلطی تسلیم کی، اور یہی مسلمان کی پہچان ہے کہ وہ خدا کا خوف رکھتے ہوئے اپنی لغزشوں کا اعتراف کرے۔

واضح رہے کہ فلم "بول” 2011 میں ریلیز ہوئی تھی اور یہ سماجی موضوعات پر مبنی ایک جاندار فلم تھی جس میں حمائمہ ملک، ماہرہ خان، عاطف اسلم، ایمان علی، شفقت چیمہ اور منظر صہبائی نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ فلم کو باکس آفس پر زبردست پذیرائی ملی تھی، تاہم اس میں بعض مکالموں پر اس وقت بھی تنقید کی گئی تھی۔

مزید خبریں

Back to top button