جاوید اختر کے جنت سے متعلق متنازع بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید
ویڈیو میں جاوید اختر کو جنت سے متعلق طنزیہ گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

ممبئی (انٹرٹینمنٹ ڈیسک): پاکستان مخالف بیانات کے حوالے سے شہرت رکھنے والے بھارتی مصنف اور شاعر جاوید اختر کے ایک اور متنازع بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں جاوید اختر کو جنت سے متعلق طنزیہ گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر صارفین نے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
ویڈیو میں جاوید اختر ایک تقریب کے دوران کہتے ہیں کہ "جنت میں میرے پسندیدہ پھل نہیں ہیں، کیلا اور امرود جو مجھے بہت پسند ہیں، وہ جنت میں موجود نہیں، شاید یہ پھل جہنم میں ہوں، اسی لیے میں کبھی جنت جانے کی کوشش نہیں کرتا۔” ان کے اس بیان پر محفل میں موجود افراد نے قہقہے لگائے تاہم ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی لہر دوڑ گئی۔
صارفین نے جاوید اختر پر مذہبی عقائد کا مذاق اُڑانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزادیِ رائے کی آڑ میں مسلسل مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک طنزیہ جملہ نہیں بلکہ سوچے سمجھے انداز میں اسلام اور مسلمانوں کے عقائد پر حملہ ہے۔
جاوید اختر ماضی میں بھی پاکستان اور اسلام مخالف بیانات کے باعث تنازع کا شکار رہے ہیں۔ ایک سابقہ پروگرام میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی کہتے ہیں میں جہنم میں جاؤں گا، اور بھارتی مجھے جہادی کہتے ہیں، یہاں تک کہ کہتے ہیں پاکستان چلے جاؤ۔ اگر مجھے پاکستان اور جہنم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو میں جہنم کا انتخاب کروں گا۔
ان بیانات کے بعد پاکستانی حلقوں میں جاوید اختر کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہوا ہے، جب کہ بھارتی حلقوں میں بھی ان کے خیالات پر تقسیم پائی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ فنکاروں کو مذہب کے حساس معاملات پر تبصرہ کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔



