کیمرہ لگی عینکوں پر پابندی کا معاملہ، لاہور ہائیکورٹ کا 15 روز میں پیشرفت رپورٹ دینے کا حکم

تمام محکمے بے خبر سو رہے تھے؟ چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکام سے سخت سوالات

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے مارکیٹوں میں کیمرہ لگی عینکوں کی فروخت پر پابندی سے متعلق درخواست پر متعلقہ حکام سے 15 روز میں تفصیلی پیشرفت رپورٹ طلب کرلی، چیف جسٹس جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ وہ وقت دور نہیں جب سب کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آئیں گی، تمام محکمے بے خبر سو رہے تھے، کیا ان محکموں نے اجازت دے دی ہے؟

درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ کیمرہ لگی عینکیں سیکیورٹی رسک بن رہی ہیں اور ان کے ذریعے حساس معلومات کا تبادلہ ہوسکتا ہے۔ درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ حکام کو 15 روز میں تفصیلی پیشرفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔

ایڈیشنل سیکریٹری کامرس نے عدالت سے استدعا کی کہ 15 روز کا وقت کم ہے، مزید مہلت دی جائے۔ اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے، 15 روز میں کتنے گھنٹے ہوتے ہیں؟ کیمرہ لگی عینکیں آسانی سے فروخت ہورہی ہیں، بچوں سے جاکر پوچھیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ ملک میں کیا ہورہا ہے اور یہ اشیا ملک میں داخل ہوچکی ہیں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا۔ایڈیشنل سیکریٹری کامرس نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے پر وزارتِ آئی ٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وزارتِ داخلہ سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاملے پر کابینہ میں سمری پیش کی جانی ہے اور اس حوالے سے معیاری ضابطۂ کار (ایس او پیز) تیار کیے جارہے ہیں۔عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت میں تفصیلی پیشرفت رپورٹ پیش کی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button