سعودی کابینہ کا آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت کی بحالی پر زور

ریاض(ویب ڈیسک) سعودی عرب کی کابینہ نے آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں آزادانہ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام میں ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آبنائے ہرمز میں 28 فروری سے قبل کی صورتحال بحال کرنے اور بحری آمدورفت پر کسی قسم کی فیس یا پابندی عائد نہ کرنے پر زور دیا گیا۔
سعودی کابینہ نے اہم آبی گزرگاہوں کو ریاستوں پر دباؤ ڈالنے، دھمکیاں دینے یا ان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا۔
اجلاس میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مذمت کا خیرمقدم بھی کیا گیا۔ سعودی کابینہ نے اسرائیلی حکام اور انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی حرمت اور اس کی مذہبی و تاریخی حیثیت کی خلاف ورزی کی بھی شدید مذمت کی۔
سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری کے مطابق کابینہ نے مؤقف دہرایا کہ خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل کا نفاذ اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔
کابینہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سعودی عرب کی شرکت کے نتائج کا بھی جائزہ لیا اور عالمی امن و سلامتی، سفارت کاری، بین الاقوامی بحرانوں کے حل اور انسانی ضروریات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب کے کردار کو سراہا۔



