امریکا میں جعلی شادیوں کے ذریعے امیگریشن فراڈ کا بڑا اسکینڈل، 11 افراد پر فردِ جرم

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں جعلی شادیوں کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو قانونی امیگریشن حیثیت دلانے والے مبینہ بڑے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے ایک دہائی کے دوران تقریباً ایک ہزار جعلی شادیاں کرانے کے الزام میں 11 افراد پر فردِ جرم عائد کردی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق مبینہ منصوبے کے تحت زیادہ تر چینی شہریوں کو امریکا میں قانونی امیگریشن حیثیت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جاتی تھی۔ غیر ملکی شہری مبینہ طور پر چھ افراد پر مشتمل گروہ کو ہر جعلی شادی کے عوض ایک لاکھ ڈالر تک ادا کرتے تھے۔

فردِ جرم کے مطابق نیٹ ورک کے ارکان غیر ملکی شہریوں کی امریکی شہریوں سے جعلی شادیاں کرواتے اور بعد ازاں مستقل قانونی رہائش حاصل کرنے کے لیے ضروری امیگریشن کارروائی میں مدد فراہم کرتے تھے۔

عدالتی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کو بھی مبینہ طور پر جعلی شادی پر رضامندی ظاہر کرنے کے عوض 30 ہزار ڈالر تک ادا کیے جاتے تھے، جبکہ امیگریشن درخواستوں اور دیگر ضروری دستاویزات کی تیاری میں بھی سہولت فراہم کی جاتی تھی۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی میں مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے میں بھی غیر ملکی شہریوں کی مدد کرتے تھے، تاکہ وہ امریکا میں قانونی مستقل رہائشی کا درجہ حاصل کرسکیں۔

حکام نے اس کیس کو امیگریشن نظام کے ممکنہ منظم غلط استعمال کی ایک بڑی مثال قرار دیا ہے۔ مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی حیثیت عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد طے ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button