کراچی، لاہور میں چیمبرز آف کامرس کی کال پر ہڑتال، اہم مارکیٹیں بند
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اختیارات میں توسیع کے خلاف دونوں شہروں میں تاجروں نے کاروبار بند رکھا۔

کراچی (ویب ڈیسک): کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کی کال پر کراچی اور لاہور میں اہم مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اختیارات میں توسیع کے خلاف دونوں شہروں میں تاجروں نے کاروبار بند رکھا۔ اگرچہ وفاقی حکومت نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) سے کامیاب مذاکرات کے بعد انہیں ہڑتال سے روک دیا، لیکن کراچی اور لاہور کے چیمبرز نے احتجاجی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے ہڑتال کی کال واپس نہ لی۔
کراچی کے اولڈ سٹی ایریا، زینب مارکیٹ، نارتھ کراچی انڈسٹریل ایریا سمیت متعدد تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے۔ کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی نے جمعے کی شب پریس کانفرنس میں ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اگر حکومت نے تحریری طور پر مطالبات منظور نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔
لاہور میں بھی متعدد بڑی مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ تاجر برادری نے ایف بی آر کے بڑھتے اختیارات کو کاروبار دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب پشاور سمیت دیگر شہروں میں معمول کے مطابق کاروبار جاری رہا۔ پشاور چیمبر آف کامرس نے ہڑتال کی کال مؤخر کرتے ہوئے نئی تاریخ 15 اگست دی ہے۔
ذرائع کے مطابق تاجر تنظیموں کے درمیان اس مسئلے پر واضح تقسیم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایف پی سی سی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا، تاہم کراچی اور لاہور کے چیمبرز نے تحریری یقین دہانی نہ ملنے پر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اور مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آئندہ ہفتوں میں ملک گیر ہڑتال کی کال دی جا سکتی ہے۔



