پاکستان نے لشکرِ طیبہ کو ختم کر دیا؛ دفتر خارجہ

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی کسی کالعدم تنظیم سے وابستگی کا تاثر حقائق کے منافی ہے

اسلام آباد (ویب ڈیسک): ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے کالعدم لشکرِ طیبہ کے تنظیمی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے قائم ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد سے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ کابل میں دہشت گردی میں ملوث شریف اللہ کی گرفتاری پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ معاملہ امریکی ملکی قوانین کے تحت زیر غور ہے، تاہم پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں کا بھرپور حصہ ہے۔

ترجمان نے بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا ماضی میں بھی سامنے آتا رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کی مہمات چلاتا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں اور انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں پر پوری قوت سے عمل پیرا ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے غیر جانبدار اور حقیقت پسندانہ پالیسیاں اپنائے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی کسی کالعدم تنظیم سے وابستگی کا تاثر حقائق کے منافی ہے۔ ریاست نے مؤثر اور جامع اقدامات کے ذریعے ان تنظیموں کو نہ صرف غیر فعال کیا بلکہ ان کی قیادت کو گرفتار کرکے عدالتوں کے کٹہرے میں بھی کھڑا کیا۔

علاوہ ازیں ترجمان دفتر خارجہ نے ایبی گیٹ حملے کے ماسٹر مائنڈ شریف اللہ کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری پاکستان کی انسداد دہشت گردی کے لیے کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بی ایل اے جیسے گروہوں کی طرح مجید بریگیڈ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دے، تاکہ ایک مؤثر اور متوازن انسداد دہشت گردی حکمت عملی اپنائی جا سکے۔

پہلگام واقعے سے متعلق ترجمان نے کہا کہ ابھی تک اس کی تحقیقات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا، اس لیے پاکستان پر الزام تراشی بلا جواز ہے۔

ترجمان نے آخر میں زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا اور دہشت گردی کے خلاف اولین صف میں کھڑا رہے گا۔

مزید خبریں

Back to top button