نصیبو لال کا گانا جو ملزم اور پولیس دونوں کے لیے درد سر بن گیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں رواں ہفتے منگل کو شادی کی ایک تقریب کے دوران گلوکارہ نصیبو لال کا گانا ساؤنڈ سسٹم پر چلانا ایک خاندان کو مہنگا پڑ گیا۔

سوشل میڈیا پر یہ بات صارفین کی توجہ کا مرکز اس وقت بنی جب اس حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ مقدمہ اس لیے درج کیا گیا ہے کیونکہ نصیبو لال کا ایک ’فحش گانا‘ مہندی کی رسم کے دوران چلایا جا رہا تھا۔

تاہم بی بی سی کی جانب سے جب ایف آئی آر کا جائزہ لیا گیا اور تھانے میں ایک اہلکار سے فون پر بات کی گئی تو معاملہ کچھ پیچیدہ نکلا۔

جو بات خاصی مضحکہ خیز تھی وہ یہ کہ ایف آئی آر میں گانے کے بول تک درج تھے۔

مقدمے کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے قادر ٹاؤن پیر محل میں منگل کو مہندی کی ایک تقریب میں نصیبو لال کا گانا اونچی میں ساؤنڈ سسٹم پر لگایا گیا اور لوگوں نے ڈانس کیا جس پر ایک علاقہ مکین نے پولیس کو ہیلپ لائن 15 پر شکایت کر دی۔

پولیس کی جانب سے موقع پر پہنچ کر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا اور ایف آئی آر کے مطابق یہ مقدمہ دو دفعات کی بنیاد پر درج کیا گیا۔ ایک دی پنجاب ساؤنڈ سسٹمز (ریگولیشن) ایکٹ 2015 کی شق 6 اور دوسری پنجاب میرج فنکشنز ایکٹ 2016 شق تھری ای تھی۔

تھانہ پیر محل کے اہلکار سے جب ایف آئی آر اور اس میں درج گانے کے بول کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ ہنسنے لگے اور نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ’اس ’جپھی‘ نے ہمیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔‘

انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگلے روز گرفتار ملزم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو ’جج صاحب نے ہمیں کہا کہ یار اور مسئلے کم ہیں جو آپ لوگ یہ بھی اٹھا لائے ہیں؟ کوئی اگر محظوظ ہو رہا ہے تو اسے ہونے دو۔ لڑکے ناچ ہی رہے تھے اور کیا کر رہے تھے۔‘

ان کے مطابق یہ کہہ کر انھوں نے ملزم کو تو بری کر دیا لیکن ’ہمیں پچھلے دو تین روز سے ہر جگہ سے کالز آ رہی ہیں۔‘

ایف آئی آر میں گانے کے بول شامل کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جس شخص نے شکایت لگائی تھی اس نے ہمیں جس طرح بتایا ہمیں اسی طرح لکھنا تھا، یہی قاعدے کا حصہ ہے۔‘

مزید خبریں

Back to top button