ظاہر جعفر صدارتی رحم کی درخواست کی تیاری میں مصروف

میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی باضابطہ درخواست

اسلام آباد (ویب ڈیسک): نور مقدم قتل کیس میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر ذاکر جعفر نے صدارتی رحم کی درخواست کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے جیل حکام کی جانب سے ظاہر جعفر کے طبی و نفسیاتی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی باضابطہ درخواست کی گئی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق، اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ڈائریکٹر کو خطوط لکھ کر درخواست کی ہے کہ رحم کی اپیل جمع کرانے سے قبل مجرم کا طبی اور ذہنی معائنہ کیا جائے، تاکہ متعلقہ رپورٹ صدر مملکت کو بھیجی جا سکے۔

8 جولائی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ مذکورہ سزایافتہ قیدی کی اپیل سپریم کورٹ میں خارج ہو چکی ہے، اب اس کی صدارتی رحم کی درخواست صدرِ مملکت کو بھیجی جا رہی ہے، جس کے لیے میڈیکل و نفسیاتی رائے درکار ہے۔

پمز کی جانب سے موصول ہونے والے جواب میں بتایا گیا ہے کہ دو رکنی بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے، جس میں شعبہ نفسیات کے ڈاکٹر شفقت نواز اور شعبہ نیورولوجی کے ڈاکٹر عامر نوید شامل ہیں، جو اڈیالہ جیل جا کر مجرم کا معائنہ کریں گے۔

یاد رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو جولائی 2021 میں اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع ظاہر جعفر کے گھر میں بہیمانہ انداز سے قتل کیا گیا تھا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ مقتولہ کو پہلے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعدازاں سر قلم کر دیا گیا۔

2023 میں ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ اور پھر رواں برس مئی میں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔ سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 بی (سوچا سمجھا قتل) کے تحت قصوروار ٹھہرایا۔

اس کے علاوہ ظاہر جعفر کو جنسی زیادتی کے جرم میں بھی 25 سال قید بامشقت اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی، جسے بعد میں سپریم کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدرِ مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ سزائے موت کو معاف، معطل یا کم کر سکتے ہیں۔ صدارتی رحم کی درخواست ظاہر جعفر کی جانب سے عدالتی راستے بند ہونے کے بعد ایک آخری قانونی موقع تصور کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے گزشتہ برس اکتوبر میں سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ وہ اس مقدمے کو ترجیحی بنیادوں پر سنے، جو ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے زیر التوا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button