اے سی سے نکلنے والا پانی ہماری سوچ سے بھی زیادہ قیمتی

یہ پانی کیمیکل سے پاک ہوتا ہے

عام طور پر فضول سمجھ کر ضائع کر دیا جانے والا ایئر کنڈیشنر (اے سی) سے نکلنے والا پانی درحقیقت پانی کی قلت کے شکار علاقوں میں ایک قیمتی وسیلہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب اے سی گرم اور مرطوب ہوا کو ٹھنڈا کرتا ہے تو ہوا میں موجود نمی پانی میں تبدیل ہو کر نالی یا پائپ کے ذریعے باہر نکلتی ہے۔ بیشتر افراد اس پانی کو بے کار سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ پانی مختلف گھریلو اور صنعتی مقاصد کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ پانی کیمیکل سے پاک ہوتا ہے، اس لیے باغبانی، خاص طور پر گھریلو پودوں اور انڈور پلانٹس کو دینے کے لیے بہترین ہے۔ اس کے علاوہ اسے فرش، کھڑکیوں، باتھ روم اور گاڑی دھونے جیسے عام گھریلو کاموں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ پانی گرد و غبار سے پاک ہوتا ہے۔

اے سی کا یہ پانی اسٹیم آئرن یا گاڑی کی بیٹری میں استعمال ہونے والے پانی سے مشابہ ہوتا ہے، بشرطیکہ اس میں کسی قسم کی زنگ آلودگی یا گندگی شامل نہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پانی کو صاف طریقے سے جمع اور محفوظ کیا جائے تو کپڑے اور برتن دھونے جیسے کاموں کے لیے بھی بآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

صنعتی سطح پر بھی اے سی کا یہ پانی استعمال میں لایا جا سکتا ہے، مثلاً کولنگ ٹاورز یا دیگر ایسی مشینری میں جہاں منرل فری پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ اگر اس پانی کو جدید فلٹریشن سسٹم سے گزارا جائے تو اسے پینے کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر اس قیمتی مگر نظر انداز شدہ وسیلے کو ضائع کرنے کے بجائے مفید استعمال میں لایا جائے، تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے اور قدرتی وسائل کی حفاظت کی جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button