اونٹوں کے پاسپورٹ: عرب روایت سے جدید ریاست تک کا سفر

نہال ممتاز

سعودی عرب میں لاکھوں اونٹوں کے لیے سرکاری پاسپورٹ جاری کرنے کی خبر بظاہر حیران کن لگتی ہے، مگر حقیقت میں یہ فیصلہ محض انتظامی قدم نہیں بلکہ ایک گہری تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روایت کا تسلسل ہے۔ عرب معاشرے میں اونٹ ہمیشہ صرف ایک جانور نہیں رہا، بلکہ بقا، وقار اور شناخت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔

جزیرۂ عرب کے وسیع صحراؤں میں عربوں اور اونٹوں کا رشتہ ساتھ اور بھروسے کی ایسی داستان ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔ بدوی قبائل نے انہی جانوروں کے سہارے بنجر زمینوں کو عبور کیا، تجارت کی، ہجرتیں کیں اور زندگی کو دوام بخشا۔ یہی وجہ ہے کہ اونٹ کو “صحرا کا جہاز” کہا گیا اور دولت و اونٹ کے الفاظ کبھی ایک دوسرے کے ہم معنی سمجھے جاتے تھے۔

اسلامی تاریخ میں بھی اونٹ کو غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید میں بار بار اونٹ کو اللہ کی نشانی کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ احادیث اور سیرت میں مشہور اونٹنی قصواء کا ذکر ملتا ہے جس پر نبی کریم ﷺ سوار رہے۔ حضرت صالحؑ کی اونٹنی کے بعد یہ جانور مسلمانوں کی اجتماعی یادداشت میں سب سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔

عرب معاشرے نے اونٹوں کے لیے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں نام وضع کیے، تاکہ عمر، طاقت، رفتار، دودھ، پیاس یا جنگی استعمال تک ہر کیفیت کو الگ شناخت دی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق عربی زبان میں اونٹ سے متعلق دس ہزار سے زائد الفاظ موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جانور عربی زبان، شاعری اور تہذیب میں کس قدر گہرائی سے پیوست ہے۔

اونٹ صرف سفر کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ خوراک، دودھ، اون، خیموں اور تجارت کا ستون بھی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب بادشاہ اور سردار اونٹوں کو قیمتی تحفے کے طور پر پیش کرتے تھے۔ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز نے تو اونٹوں کو اپنی فوج اور ریاستی نظام کا اہم حصہ بنایا، اور یہ روایت بعد کے تمام ادوار میں برقرار رہی۔ جنادریہ جیسے ثقافتی میلوں، اونٹ دوڑوں اور خوبصورتی کے مقابلوں نے اس تعلق کو نئی نسل تک منتقل کیا۔

جدید دور میں بھی یہی احترام نئی صورتوں میں سامنے آیا۔ سعودی حکومت نے 2024 کو “اونٹ کا سال” قرار دیا، بین الاقوامی اونٹ تنظیم کے قوانین اپنائے اور اونٹ کلب قائم کیے۔ اب اونٹوں کے لیے پاسپورٹ کا اجرا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کا مقصد نسلوں کا تحفظ، ملکیت کا واضح ریکارڈ، صحت کی نگرانی اور عالمی تجارت میں شفافیت پیدا کرنا ہے، تاکہ یہ ورثہ جدید معیشت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی محفوظ رہے۔

یوں اونٹوں کے پاسپورٹ کی خبر محض ایک عجیب واقعہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ عرب معاشرے میں اونٹ آج بھی ماضی، حال اور مستقبل کو جوڑنے والا ایک زندہ استعارہ ہے ، ایک جانور نہیں، بلکہ پوری تہذیب کی پہچان۔

مزید خبریں

Back to top button