اداکارہ حمیرا اصغر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

یاد رہے کہ اداکارہ کی لاش 8 جولائی کو ڈی ایچ اے کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی تھی

کراچی (ویب ڈیسک): کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں مردہ حالت میں پائی جانے والی اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں ان کی موت آٹھ سے دس ماہ پرانی قرار دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اداکارہ کی لاش 8 جولائی کو ڈی ایچ اے کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی تھی جب مکان مالک نے کرایہ نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے فلیٹ خالی کرانے کا حکم دیا۔ دروازہ توڑ کر جب پولیس اندر داخل ہوئی تو وہاں ایک شدید بوسیدہ لاش ملی، جس کی بعد ازاں شناخت حمیرا اصغر کے طور پر کی گئی۔

ابتدائی طور پر پولیس نے اندازہ لگایا تھا کہ موت کو 20 دن گزر چکے ہیں، تاہم اگلے ہی روز یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ لاش ممکنہ طور پر 6 ماہ پرانی ہو سکتی ہے۔ تاہم اب جاری کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس قیاس آرائی کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حمیرا اصغر کی موت کم از کم آٹھ سے دس ماہ قبل ہو چکی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش مکمل طور پر گل چکی تھی اور ڈی کمپوزیشن کے آخری مراحل میں تھی۔ جسم کے نچلے حصے کا گوشت ختم ہو چکا تھا جب کہ جسم پر کسی بھی قسم کی ہڈی ٹوٹنے یا واضح تشدد کا نشان نہیں ملا۔ کیمیائی تجزیے کے لیے اداکارہ کے بال اور ان کی شرٹ کے ٹکڑے بھی لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ لاش میں کیڑے پائے گئے، اور لاش کی حالت اس قدر خراب تھی کہ کسی قسم کی جسمانی زیادتی یا تشدد کے شواہد حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات کو وسعت دیتے ہوئے اداکارہ کے موبائل فون ڈیٹا، سوشل میڈیا سرگرمیوں، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کا بھی بغور جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ موت کی وجہ کا پتہ لگایا جا سکے۔

یاد رہے کہ واقعے کے بعد ابتدائی طور پر یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ والدین نے میت وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم بعد میں ان کے بھائی نوید اصغر رمضان چھیپا فاؤنڈیشن سے رابطے میں آئے اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میت ان کے حوالے کر دی گئی۔

میڈیا سے گفتگو میں نوید اصغر نے واضح کیا کہ خاندان حمیرا سے لاتعلق نہیں تھا، والد نے محض ذہنی دباؤ کے عالم میں میت وصول نہ کرنے کی بات کہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حمیرا خود مختار اور خوددار شخصیت کی مالک تھی، اور اب وہ دعاگو ہیں کہ اللہ اس کی مغفرت فرمائے۔

مزید خبریں

Back to top button