آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان پہنچ گیا، سٹیٹ بینک حکام سے ملاقات

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن 15 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا، وفد نے کراچی میں سٹیٹ بینک حکام سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران آئی ایم ایف حکام کو سٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی کارکردگی اور ڈیٹا پر بریفنگ دی گئی۔
جائزہ مشن 11 مارچ تک پاکستان میں قیام کرے گا، پہلے مرحلے میں کراچی، دوسرے میں اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، جائزہ مشن مالی سال کے پہلے 6 ماہ (جولائی تا دسمبر) کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا، آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بنیادی خدوخال بھی جائزہ شیڈول میں شامل ہیں۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکس ریونیو کے سوا آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں، ایف بی آر کو پہلے چھ ماہ میں 329 ارب روپے جبکہ سات ماہ میں 372 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جس پر مشن کو بریفنگ دی جائے گی۔
حکومت کی جانب سے سالانہ ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق صوبائی اور مجموعی مالیاتی فریم ورک، گورننس، اینٹی کرپشن اقدامات، نیب اور اہم اداروں میں تقرریوں کے عمل کا بھی جائزہ لیا جائے گا، ایف بی آر کے انسدادِ بدعنوانی سیل کو مزید مضبوط بنانے، سرکاری افسران کے اثاثے عام کرنے اور اصلاحاتی ایکشن پلان پر بھی بات چیت ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پرائمری فسکل سرپلس جی ڈی پی کے تقریباً 1.3 فیصد کے برابر حاصل کیا جا چکا ہے جبکہ صوبوں نے مجموعی طور پر 1180 ارب روپے کا کیش سرپلس دیا، صوبائی ٹیکس اہداف پورے ہوئے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا اور زرمبادلہ ذخائر پروگرام کے ہدف سے بہتر سطح پر برقرار ہیں۔
جولائی تا نومبر لارج سکیل مینوفیکچرنگ شعبے میں تقریباً 6 فیصد گروتھ رپورٹ ہوئی ہے، حکام کے مطابق حالیہ سیلاب سمیت مشکلات کے باوجود قرض پروگرام آن ٹریک ہے۔
یہ دورہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام اور 1.4 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کا حصہ ہے، جن کا مجموعی حجم 8.4 ارب ڈالر بنتا ہے، دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اب تک 3.3 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔



