ہماقریشی کو پہلی فلم کا معاوضہ اتنا کم ملا کہ وہ دل برداشت ہوگئی۔

ہما قریشی جلد ہی نئی فلم ’ترلہ‘ میں بطور شیف دکھائی دیں گی، جس میں وہ معروف بھارتی شیف ترلہ دلال کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی۔اپنی نئی فلم کی پروموشن کے لیے حال ہی میں انہوں نے سینیئر بھارتی صحافی برکھا دت کو انٹرویو دیا، جس میں انہوں نے شوبز سمیت ذاتی زندگی پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ ان کا تعلق مسلمان گھرانے سے اور ان کا بچپن اور جوانی نئی دہلی میں گزری۔انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نئی دہلی میں ریسٹورنٹ چلاتے ہیں انہوں نے شوبز پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2010 میں اداکاری کا آغاز کیا اور انہیں پہلی فلم ’گینگ آف واسع پور‘ کی پیش کش ہوئی۔ہما قریشی کے مطابق انہوں نے متعدد بڑے اداکاروں کے ساتھ ورناسی میں فلم کی شوٹنگ میں حصہ لیا، اس وقت تک انہیں یہ علم ہی نہیں تھا کہ فلم میں ان کا کردار کتنا اہم ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ فلم میں مرکزی کردار میں دکھائی دیں گی اور یہ کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران کسی طرح کی کوئی سہولیات نہیں تھیں۔ہما قریشی کا کہنا تھا کہ آج کل فلموں کی شوٹنگ کے دوران نہ صرف سیکیورٹی ملتی ہے جب کہ دیگر کئی سہولیات بھی میسر ہوتی ہیں لیکن اس وقت ایسا کچھ نہیں تھا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں اپنی پہلی فلم کا معاوضہ صرف اور صرف 75 ہزار بھارتی روپے ادا کیا گیا، جس وجہ سے کافی عرصے تک ان میں اعتماد کی کمی رہی۔ہما قریشی کا کہنا تھا کہ جب فلم آئی اور انہوں نے اپنا کردار مرکزی دیکھا تب انہوں نے سوچا کہ کیا انہیں اپنا معاوضہ زیادہ لینا چاہئیے تھا لیکن اس وقت کافی دیر ہو چکی تھی۔

مزید خبریں

Back to top button