ایران امریکا کشیدگی:بحیرہ روم میںلڑاکا طیاروں کی تعیناتی،ایرانی قیادت کو براہ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تازہ رپورٹ میں انکشاف

واشنگٹن/تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق USS Gerald R. Ford بحیرہ روم میں داخل ہو گیا ہے، جس پر درجنوں لڑاکا طیارے تعینات ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر بھی لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے، جبکہ ایک امریکی اخبار کے مطابق اردن کے ایئربیس پر کم از کم 60 لڑاکا طیارے موجود ہیں۔ برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکنہ حملے کی صورت میں امریکا ایرانی قیادت کو براہِ راست نشانہ بنا سکتا ہے اور ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کو دباؤ میں لا کر جھکانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے تیار ہے۔

تازہ ترین کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ممکنہ معاہدے کے لیے 10 سے 15 روز کا الٹی میٹم دیا، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے حالیہ اقدامات سے مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے اور عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے، تاکہ کسی ممکنہ فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button