اداکارہ حمیرا اصغر کے دو شناختی کارڈ، تاریخِ پیدائش میں تبدیلی کا انکشاف
واضح رہے کہ 8 جولائی کو ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے حمیرا اصغر کی لاش ملی تھی

کراچی (انٹرٹینمنٹ ڈیسک): کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سے لاش برآمد ہونے والے ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کیس میں تحقیقات میں نیا موڑ سامنے آ گیا ہے۔ پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ مرحومہ دو شناختی کارڈز استعمال کر رہی تھیں، جن میں سے ایک میں ان کی تاریخِ پیدائش تبدیل کی گئی تھی۔
پولیس کے مطابق حمیرا اصغر نے اصل شناختی کارڈ میں ٹیمپرنگ کرتے ہوئے اپنی تاریخِ پیدائش کو 1983 سے تبدیل کرکے 1997 کر دیا تھا۔ یہ ٹیمپرڈ شناختی کارڈ وہ مبینہ طور پر شوبز سرگرمیوں میں استعمال کرتی تھیں تاکہ اپنی عمر کم ظاہر کی جا سکے۔
واضح رہے کہ 8 جولائی کو ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے حمیرا اصغر کی لاش ملی تھی، جو کہ مکمل طور پر گل سڑ چکی تھی۔ فلیٹ مالک نے کئی ماہ سے کرایہ نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد پولیس کو فلیٹ خالی کرانے کا حکم ملا۔ کارروائی کے دوران فلیٹ سے لاش برآمد ہوئی۔
پہلے پہل لاش کو ایک ماہ پرانا سمجھا جا رہا تھا، تاہم بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ لاش آٹھ سے دس ماہ پرانی ہے۔ اس انکشاف کے بعد پولیس نے معاملے کی مزید چھان بین شروع کی اور ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جو اس بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ موت طبعی تھی، خودکشی تھی یا قتل۔
اس معاملے میں معروف صحافی اقرار الحسن نے بھی کچھ اہم معلومات سامنے لائیں، جن کے مطابق حمیرا نے موت سے قبل 7 اکتوبر کو دس مختلف افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی، جن میں ان کا بھائی بھی شامل تھا، مگر کسی نے ان کا پیغام موصول ہونے کے باوجود جواب نہیں دیا۔
اداکارہ کے زیر استعمال تین موبائل فونز، ایک ٹیبلٹ، اور ذاتی ڈائری بھی پولیس نے تحویل میں لے لی ہے، جبکہ موبائل ڈیٹا سے کئی مشتبہ روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے بلکہ اداکارہ کی موت اور اس کے پس منظر میں موجود پہلوؤں نے کئی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔



